LIVE
Loading Breaking News...

میٹا پر بچوں کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ: کیلیفورنیا عدالت میں بڑی قانونی جنگ

News Image
امریکہ کی متعدد ریاستوں نے میٹا پر بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے اور انہیں ذہنی نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی نے منافع کمانے کی خاطر نوجوان صارفین کو جان بوجھ کر اپنی ٹیکنالوجی کے جال میں پھنسایا ہے۔
کیلیفورنیا کی عدالت میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی 'میٹا' کے خلاف ایک تاریخی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں کمپنی پر بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے نقصان دہ اثرات سے بچانے میں ناکامی اور انہیں جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ میٹا نے اپنی منافع خوری کو ترجیح دیتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجیز اور الگورتھمز کا استعمال کیا جو بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ اس مقدمے کو سوشل میڈیا کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی قانونی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور فیس بک کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ نوجوان صارفین کو گھنٹوں اپنی طرف متوجہ رکھ سکیں، جس کے نتیجے میں بچوں میں ڈپریشن، بے چینی اور خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی تمام تر توجہ اشتہاری آمدنی بڑھانے پر مرکوز ہے، اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایسی تکنیکوں کا سہارا لیا ہے جو بچوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ یہ مقدمہ اس بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ کیا ٹیک کمپنیاں اپنے صارفین، خاص طور پر کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے کافی اقدامات کر رہی ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب میٹا کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کے لیے مسلسل نئے فیچرز متعارف کروا رہی ہے اور والدین کے لیے نگرانی کے ٹولز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ تاہم، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ سوشل میڈیا انڈسٹری کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اگر عدالت میٹا کو قصوروار ٹھہراتی ہے تو کمپنی کو نہ صرف بھاری جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں بلکہ اپنے کاروباری ماڈل میں بھی بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ یہ مقدمہ اس بات کی علامت ہے کہ اب دنیا بھر کی حکومتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری اور ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔