LIVE
Loading Breaking News...

نیکس (N3XT) بینک کی جانب سے کراس بارڈر ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل ٹوکن کا آغاز

News Image
بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی بینک نیکس نے بین الاقوامی لین دین کے لیے ڈیجیٹل ٹوکن کے استعمال کی منظوری حاصل کر لی ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر رقوم کی منتقلی کو مزید تیز اور محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی جدید بینک 'نیکس' (N3XT) نے مالیاتی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیکس نے امریکی ریاست وائیومنگ کے ریگولیٹرز سے باضابطہ منظوری حاصل کر لی ہے، جس کے تحت اب اس کے صارفین اپنے ڈیجیٹل ٹوکنز کا استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی ہم منصبوں کے ساتھ براہِ راست لین دین کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی رقوم کی منتقلی کے روایتی اور سست عمل کو ختم کر کے اسے بلاک چین کی مدد سے زیادہ تیز اور شفاف بنانا ہے۔ اس پیش رفت پر بات کرتے ہوئے نیکس کے بانی اسکاٹ شے نے بتایا کہ ریگولیٹری منظوری بینک کے مستقبل کے وژن کا ایک اہم حصہ ہے، جو صارفین کو سرحد پار ادائیگیوں کے لیے محفوظ اور ڈیجیٹل راستے فراہم کرنے میں مدد دے گی۔ روایتی بینکنگ نظام میں غیر ملکی ادائیگیوں کا عمل اکثر پیچیدہ ہوتا ہے اور اس میں کئی بینک شامل ہوتے ہیں، جس سے وقت اور لاگت دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ تاہم، نیکس کا ٹوکنائزڈ نظام اس رکاوٹ کو دور کر کے مالیاتی لین دین کو نینو سیکنڈز میں ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وائیومنگ ریگولیٹرز کی جانب سے یہ اجازت نامہ کرپٹو اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی اداروں کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ یہ اقدام نہ صرف صارفین کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ عالمی معیشت میں ڈیجیٹل اثاثوں کے کردار کو بھی مستحکم کرے گا۔ نیکس کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا بھر کے مالیاتی ادارے روایتی بینکنگ سے ڈیجیٹل اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی اور رفتار ہی کامیابی کی کلید ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ نیکس اپنے اس پلیٹ فارم کو مزید وسعت دے گا تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ڈیجیٹل ٹوکنز کے ذریعے ہونے والی یہ کراس بارڈر ادائیگیاں عالمی تجارت کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے رقوم کی ترسیل میں شفافیت آئے گی اور غلطیوں کا امکان بھی کم سے کم ہوگا۔