Technology
کوانٹم فزکس: ہائزنبرگ کا خلا کے بارے میں نظریہ درست ثابت
ماہرین فلکیات نے ایک مقناطیسی ستارے کے مشاہدے کے ذریعے ورنر ہائزنبرگ کے کوانٹم نظریے کی عملی تصدیق کر دی ہے۔ اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خلا مکمل طور پر خالی نہیں بلکہ کوانٹم اثرات کا حامل ہے۔
طبیعیات کی دنیا میں مشہور سائنسدان ورنر ہائزنبرگ نے برسوں قبل یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ خلا کبھی بھی مکمل طور پر خالی نہیں ہوتا۔ حالیہ تحقیق میں ایک مقناطیسی ستارے (Magnetar) کے مشاہدے نے اس نظریے کو عملی طور پر ثابت کر دیا ہے۔ عام طور پر کوانٹم کے مظاہر کا تعلق ایٹمی سطح کی چھوٹی اشیاء سے سمجھا جاتا ہے، لیکن نئی سائنسی دریافتوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ کوانٹم قوانین کائنات کے بڑے اجسام اور وسیع و عریض خلا پر بھی اسی طرح لاگو ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ مقناطیسی ستارے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان کے حامل ہوتے ہیں، جو اپنے ارد گرد کی روشنی کی لہروں کو پولرائز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب اس ستارے سے نکلنے والی روشنی کے ذرات خلا سے گزرتے ہیں، تو وہ 'ویکیوم بائر ریفریکشن' (Vacuum Birefringence) نامی عمل سے گزرتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ خلا کے اندر موجود ورچوئل پارٹیکلز روشنی کے سفر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ خلا کے اندر ایک پیچیدہ کوانٹم ساخت موجود ہے جو اسے 'خالی' ہونے سے روکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج کائناتی پیمانے پر کوانٹم میکانکس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدہ نہ صرف ہائزنبرگ کے دہائیوں پرانے نظریے کو درست ثابت کرتا ہے بلکہ کائنات کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے نئے دروازے بھی کھولتا ہے۔ یہ مقناطیسی ستارہ، جو ایک مردہ ستارے کی باقیات ہے، اپنی انتہائی مقناطیسی قوت کی وجہ سے اب ایک قدرتی لیبارٹری کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں سائنسدان ایسے مظاہر کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو زمین پر موجود تجربہ گاہوں میں ممکن نہیں تھے۔
آنے والے وقتوں میں اس طرح کی مزید تحقیق سے خلا کے گہرے رازوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ہر کونا، چاہے وہ ہمیں کتنا ہی ویران کیوں نہ لگے، بنیادی ذرات اور توانائی کے مسلسل عمل سے بھرپور ہے۔ ہائزنبرگ کا نظریہ اب جدید فلکیاتی فزکس کی بنیاد بن چکا ہے اور اس نے کائنات کو دیکھنے کا ہمارا نقطہ نظر مکمل طور پر بدل دیا ہے۔