Entertainment
کرسٹوفر نولن کی فلم دی اوڈیسی کی چین میں شاندار کامیابی
مشہور ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی نئی فلم دی اوڈیسی نے چین میں ریلیز ہوتے ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ فلم نے اپنے افتتاحی ویک اینڈ کے دوران 37 ملین ڈالر سے زائد کی کمائی کرکے ناقدین کو حیران کر دیا ہے۔
مشہور و معروف ہالی وڈ ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی تازہ ترین پیشکش 'دی اوڈیسی' نے باکس آفس پر اپنی کامیابی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس فلم نے اپنے افتتاحی ویک اینڈ کے دوران چین کے سنیما گھروں میں 37 ملین ڈالر کا شاندار کاروبار کیا ہے۔ اگرچہ فی الوقت 'اسپائیڈر مین: برانڈ نی ڈے' جیسے بڑے پروجیکٹس دنیا بھر کے تھیٹرز پر چھائے ہوئے ہیں، لیکن کرسٹوفر نولن کی یہ فلم اپنی منفرد کہانی اور ہدایت کاری کی بدولت چینی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
چین کا باکس آفس عالمی سطح پر فلموں کی کامیابی کے لیے ایک انتہائی اہم مارکیٹ سمجھا جاتا ہے، اور وہاں اتنی بڑی تعداد میں اوپننگ حاصل کرنا کسی بھی بین الاقوامی فلم کے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نولن کے شائقین نہ صرف مغربی ممالک میں موجود ہیں بلکہ ایشیائی منڈیوں میں بھی ان کے کام کو بے حد پذیرائی ملتی ہے۔ فلم کے بصری اثرات اور پیچیدہ پلاٹ نے چینی ناظرین کو سکرین کے سامنے جکڑے رکھا ہے، جس کے نتیجے میں فلم کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
فلمی ماہرین کے مطابق، 'دی اوڈیسی' کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ کرسٹوفر نولن کی کارگردگی اور ان کی فلموں میں پائے جانے والے گہرے تھیمز آج بھی دنیا بھر کے شائقین کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ فلم کے پروڈیوسرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو امید ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ فلم مزید کئی ریکارڈز توڑ سکتی ہے، کیونکہ اسے مثبت ریویوز اور بہترین 'ورڈ آف ماؤتھ' مل رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو امید کی جا سکتی ہے کہ فلم اپنی لاگت کو بہت جلد پورا کرنے کے ساتھ ساتھ منافع بخش پروجیکٹس کی فہرست میں شامل ہو جائے گی۔
مجموعی طور پر، یہ کامیابی ہالی وڈ کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے کہ شائقین اب بھی سنیما گھروں کا رخ کر رہے ہیں اور معیاری سنیما کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ کرسٹوفر نولن نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ایک مضبوط ہدایت کار کسی بھی مارکیٹ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ شائقین اب فلم کے دوسرے ہفتے کے کلیکشن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ فلم کتنی دور تک جا سکتی ہے۔