LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کمپنیوں کو سائبر حملوں کے جواب میں جوابی ہیکنگ کی اجازت

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے جس کے تحت امریکی نجی کمپنیاں سرکاری حکام کے ساتھ مل کر سائبر حملوں کا جواب دینے کی مجاز ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد ملکی سطح پر سائبر سکیورٹی کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ایک اہم اور متنازعہ پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی نجی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے سائبر حملوں کا جواب 'ہیکنگ بیک' کے ذریعے دے سکیں۔ اس پروگرام کے مطابق، کمپنیاں امریکی حکام کے ساتھ قریبی تعاون اور نگرانی میں رہ کر ہیکرز کے نیٹ ورک کے خلاف جوابی کارروائی کر سکیں گی۔ اس پیشرفت کو سائبر دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد نجی شعبے کے اثاثوں اور حساس معلومات کو بیرونی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام صرف محدود حالات میں اور قانونی ضوابط کے تحت ہی استعمال کیا جائے گا، تاکہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی تصادم سے بچا جا سکے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اور قانون دانوں کی جانب سے اس نئے پروگرام پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جہاں کچھ ماہرین اسے سائبر حملوں کو روکنے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں دیگر حلقوں کو خدشہ ہے کہ نجی کمپنیوں کو جوابی کارروائی کا اختیار دینے سے سائبر سپیس میں افراتفری پھیل سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نجی اداروں کے پاس وہ مہارت یا وسائل نہیں ہوتے جو ایک سرکاری ایجنسی کے پاس ہوتے ہیں، لہذا غلطی کی صورت میں اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جوابی کارروائی سے قبل وفاقی اداروں سے پیشگی منظوری اور رہنمائی لینا لازمی ہو گا تاکہ اخلاقی اور قانونی حدود کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد امریکی نجی شعبے کی سائبر سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں بڑی امریکی کمپنیوں پر ہونے والے سائبر حملوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں اکثر حساس کاروباری معلومات، صارفین کے ڈیٹا اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری کا شکار بنتی رہی ہیں۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اگر کمپنیاں خود بھی دفاع میں فعال کردار ادا کریں گی تو ہیکرز کے عزائم کو زیادہ موثر طریقے سے ناکام بنایا جا سکے گا۔ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ پروگرام کس حد تک موثر ثابت ہوتا ہے اور اسے کن تکنیکی معیارات کے تحت نافذ کیا جاتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ اس اقدام کے بعد سے عالمی سطح پر سائبر وارفیئر کے قواعد و ضوابط پر ایک نئی بحث کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔