LIVE
Loading Breaking News...

شام میں اسرائیلی فضائی حملے: ادلب کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا

News Image
شام اور امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ادلب کے علاقے میں واقع ایک فوجی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ترکی اور اقوام متحدہ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شام کے شمالی مغربی صوبے ادلب میں واقع ایک فوجی ایئر بیس پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ امریکی اور شامی حکام کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق کے بعد عالمی سطح پر سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔ اسرائیل نے اپنے ایک بیان میں ان حملوں کو یہ کہہ کر درست قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ وہاں ترکی کی افواج کی تعیناتی کے منصوبے تھے، تاہم عالمی برادری نے اس کارروائی کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس حملے کے بعد سے مقامی سطح پر سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام شام میں جاری پراکسی جنگ کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ترکی کی جانب سے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ یکطرفہ اقدام نہ صرف شام کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ اس سے خطے کے امن و امان کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ترکی نے اس معاملے پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایسے اقدامات کا سدِ باب کیا جا سکے جو پہلے سے ہی تباہ حال شام کو مزید سنگین بحران میں دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی شام کے فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کو تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے اور فوجی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے جو عام شہریوں اور علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ عالمی تنظیم نے تمام علاقائی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر شام میں غیر ملکی افواج کی موجودگی اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اپنی سکیورٹی کا جواز پیش کر رہا ہے، لیکن خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے تنازعات کے دائمی خاتمے میں مددگار ثابت ہونے کے بجائے حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث بنیں گے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر عالمی طاقتوں کے درمیان مزید سفارتی رابطوں اور بیانات کی توقع کی جا رہی ہے۔