Technology
ڈی جے آئی ڈرون کمپنی کو امریکی پابندیوں سے بڑی ریلیف مل گئی
امریکی عدالتِ اپیل نے معروف ڈرون ساز کمپنی ڈی جے آئی کو 'چینی فوجی کمپنی' قرار دینے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو مزید جائزے کے لیے واپس نچلی عدالت میں بھیج دیا ہے تاکہ اس کا دوبارہ قانونی جائزہ لیا جا سکے۔
دنیا بھر میں ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے مشہور چینی کمپنی ڈی جے آئی (DJI) کو امریکی عدالتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی کورٹ آف اپیلز نے ایک اہم فیصلے میں نچلی عدالت کے اس حکم کو جزوی طور پر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت ڈی جے آئی کو 'چینی فوجی کمپنی' کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کیس کو دوبارہ نچلی عدالت میں واپس بھیج دیا ہے تاکہ ان تمام حقائق اور شواہد کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکے جن کی بنیاد پر کمپنی کو اس متنازعہ فہرست کا حصہ بنایا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت ڈی جے آئی کے لیے ایک اہم ریلیف ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ 'چینی فوجی کمپنی' کا لیبل امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کاروباری تعلقات میں رکاوٹیں پیدا کر رہا تھا۔ ڈی جے آئی نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ محض ایک سویلین ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو کسی بھی فوجی آپریشن میں ملوث نہیں ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس ایک نچلی عدالت نے ڈی جے آئی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں کمپنی نے خود کو بلیک لسٹ سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب اپیل کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد کمپنی کے وکلاء کو امید ہے کہ وہ عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ کمپنی کو فوجی عزائم سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔ یہ قانونی جنگ نہ صرف ڈی جے آئی کے لیے بلکہ دیگر چینی ٹیکنالوجی فرموں کے لیے بھی ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے جو امریکی پابندیوں اور تجارتی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے لگائے گئے اس لیبل کی وجہ سے ڈی جے آئی کو امریکہ میں سرکاری ٹھیکوں اور سرمایہ کاری کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک جزوی کامیابی ہے، لیکن ٹیکنالوجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں کمپنی کے قانونی موقف کو مضبوط بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت میں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عدالت ڈی جے آئی کے پیش کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اسے اس فہرست سے نکالنے کا حتمی حکم جاری کرتی ہے یا نہیں۔ اس دوران ڈی جے آئی نے اپنے عالمی آپریشنز کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کے پرامن اور تجارتی استعمال کو فروغ دینا جاری رکھیں گے۔