LIVE
Loading Breaking News...

یو پی ایس کسٹمز کلیئرنس میں اے آئی ٹیکنالوجی کا انقلاب

News Image
یو پی ایس نے اپنی کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو متعارف کروا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب سرحد پار کرنے والے 90 فیصد پیکیجز کی جانچ پڑتال خودکار طریقے سے انجام دی جا رہی ہے۔
مشہور عالمی لاجسٹک کمپنی یو پی ایس (UPS) نے اپنی آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے ایجنٹس کو متعارف کرایا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی نے اپنے روزانہ کے کسٹمز کلیئرنس کے عمل کا 90 فیصد حصہ خودکار بنا دیا ہے۔ ماضی میں سرحد پار کرنے والے ہر پیکیج کی جانچ پڑتال، درجہ بندی اور اس میں موجود ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کے لیے انسانی عملے پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے کئی بار پیکیجز کو سرحد پر کئی دنوں تک تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور وقت طلب عمل تھا جو سپلائی چین کی رفتار کو سست کر دیتا تھا۔ نئے مصنوعی ذہانت کے نظام کی بدولت اب ڈیٹا کی جانچ پڑتال اور درجہ بندی سیکنڈوں میں ممکن ہو گئی ہے۔ ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے میں پیکیجز کی بڑی تعداد کو تیزی سے ترتیب دینا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے، لیکن یو پی ایس کے ان نئے اے آئی ایجنٹس نے اس عمل میں موجود رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔ یہ سسٹم پیکیجز کے کاغذات کا درست جائزہ لینے اور کسٹمز کے ضوابط کے مطابق درجہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے نہ صرف انسانی غلطیوں کا امکان کم ہوا ہے بلکہ بارڈر پر کلیئرنس کے عمل میں آنے والی دیر بھی ختم ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب ایک بڑا قدم ہے جس سے بین الاقوامی تجارت میں سہولت پیدا ہو رہی ہے۔ یو پی ایس کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے عمل کو خودکار بنانا نہ صرف لاگت میں کمی لاتا ہے بلکہ کسٹمرز کو ان کے پیکیجز بھی پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے موصول ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں کمپنی اپنے اس خودکار نظام کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ پوری دنیا میں سامان کی نقل و حمل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے بعد اب کسٹمز کے معاملات میں درستگی کا تناسب بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس پیچیدہ ڈیٹا کو بہت باریکی سے پرکھتے ہیں، جس سے کسٹم حکام اور لاجسٹک کمپنیوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر ہوئی ہے۔ یو پی ایس کی جانب سے یہ پیش رفت لاجسٹکس کی صنعت کے لیے ایک نئی مثال ہے، جہاں اب مشین لرننگ اور اے آئی کی مدد سے روایتی رکاوٹوں کو عبور کیا جا رہا ہے۔