Education
آن لائن امتحانات اور مصنوعی ذہانت: تعلیمی اداروں کے لیے نیا چیلنج
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی پانچ میں سے چار یونیورسٹیاں آن لائن امتحانات کا سہارا لے رہی ہیں جس سے طلبہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روایتی امتحانی طریقہ کار کی عدم موجودگی تعلیمی معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔
تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا داخلہ ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک جانب یہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے عمل کو آسان بنا رہی ہے، تو دوسری جانب تعلیمی دیانت داری کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ پالیسی ایکسچینج نامی تھنک ٹینک کی ایک نئی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی سطح پر پانچ میں سے چار یونیورسٹیاں اب آن لائن امتحانات کا انعقاد کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کی جانب سے امتحانی پرچوں کو حل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور دیگر اے آئی ٹولز کے غیر قانونی استعمال کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کی جانب سے گھر سے دیے جانے والے آن لائن امتحانات کے اس رجحان نے نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں کو جانچنے کے شفاف عمل کو مشکوک بنا دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ جب امتحانات کی نگرانی کا نظام کمزور ہوتا ہے، تو طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعے طویل مضامین، حل شدہ ریاضیاتی سوالات اور دیگر علمی کام سیکنڈوں میں تیار کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال نے اساتذہ اور تعلیمی بورڈز کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ آیا آن لائن اسسمنٹ کا موجودہ نظام طلبہ کی حقیقی قابلیت کا عکاس ہے یا نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اب جدید ٹیکنالوجی سے نمٹنے کے لیے اپنے امتحانی طریقہ کار میں فوری تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ روایتی 'کلوزڈ بک' امتحانات کا دوبارہ انعقاد اور ایسے سافٹ ویئر کا استعمال جو اے آئی سے تیار کردہ مواد کو شناخت کر سکیں، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یونیورسٹیاں اب اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو کم کیا جائے تاکہ ڈگریوں کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحان مستقبل میں تعلیمی قابلیت کے معیار کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
آخر میں، پالیسی سازوں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن تعلیم کے فوائد اور نقصانات کا متوازن جائزہ لیں۔ مصنوعی ذہانت کو صرف نقل کے ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور طلبہ کی اخلاقی تربیت پر توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ محض سہولت کی خاطر امتحانات کو آن لائن منتقل کرنا طویل مدتی تعلیمی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، لہذا طلبہ کی جانچ کے لیے زیادہ سخت اور شفاف نظام کا نفاذ ناگزیر ہے۔