Pakistan
پاکستان میں گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات اور میڈیا کا کردار
ایک حالیہ تحقیق میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا کو گلیشیئرز پگھلنے سے پیدا ہونے والے سیلابوں (GLOF) کے بارے میں محض تباہی کی رپورٹنگ کے بجائے سائنسی حل پر توجہ دینی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت آگاہی اور حفاظتی اقدامات ہی ان قدرتی آفات سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہیں۔
پاکستان میں گلیشیئرز پگھلنے سے پیدا ہونے والے سیلابی ریلوں (GLOF) کے حوالے سے جاری کردہ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میڈیا کو اپنی کوریج کے انداز کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، روایتی طور پر خبر رساں ادارے صرف تباہی کے مناظر اور نقصانات کی رپورٹنگ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، جبکہ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ عوام کو ان خطرات سے بچنے کے سائنسی طریقوں اور حکومتی سطح پر جاری حفاظتی منصوبوں سے آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو ایک ذمہ دار پلیٹ فارم کے طور پر ایسے حل پیش کرنے چاہئیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
ملک کے شمالی علاقہ جات، جہاں گلیشیئرز کی کثرت ہے، اگست کے آخر تک شدید گرمی اور موسمیاتی دباؤ کے باعث گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات سے دوچار ہیں۔ محکمہ موسمیات اور دیگر ماحولیاتی اداروں نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اچانک آنے والے سیلابی ریلے نچلے علاقوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا کا کردار صرف خبر دینا نہیں بلکہ بروقت انتباہی نظام (Early Warning Systems) کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے گلیشیئرز سے پیدا ہونے والے سیلابوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے 286 نئے ابتدائی انتباہی نظام نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی اہمیت اجاگر کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف ملامت کا کھیل کھیلنے یا کسی ایک عنصر کو ذمہ دار ٹھہرانے سے ماحولیاتی بحران حل نہیں ہوگا۔ گلیشیئرز پگھلنے کا مسئلہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کے لیے اجتماعی اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، انہیں میڈیا کے ذریعے ایسی پالیسیوں کی حمایت کرنی چاہیے جو پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ہوں۔ میڈیا کو مقامی آبادی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جب گلیشیئرز پگھلتے ہیں تو ان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے، تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔
آخر میں، ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صحافیوں کو ماحولیاتی سائنس کی بہتر تفہیم کی تربیت دی جائے تاکہ وہ عوام کو گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل، اس کی وجوہات اور اس کے تدارک کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات کے بارے میں درست اور مستند معلومات فراہم کر سکیں۔ جب تک میڈیا اس معاملے میں ایک تعلیمی اور معلوماتی کردار ادا نہیں کرے گا، تب تک ان آفات سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے گی۔