World
ایران امریکہ تعلقات: ٹرمپ کا مذاکرات سے انکار، آبنائے ہرمز میں کشیدگی
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ فی الحال کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ فی الحال کسی بھی سطح پر مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ معاہدے نے خطے میں عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر 'دباؤ' ڈالنے کی پالیسی کو تہران نے مسترد کر دیا ہے اور ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ صرف مراعات حاصل کرنے کے لیے معاشی اور سفارتی دباؤ کا حربہ استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب، آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اور وہاں جاری فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایران نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے مذاکرات کو 'مستقبل قریب' تک کے لیے معطل کرنے کے اعلان کے بعد سے خطے میں سفارتی خلا پیدا ہو چکا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
متحدہ عرب امارات سمیت دیگر علاقائی ممالک نے ایران کی جانب سے نئے میزائل تجربات اور فوجی نقل و حرکت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا سخت مؤقف خطے میں جاری سفارتی تعطل کو مزید طول دے سکتا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ اس تمام صورتحال میں، آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں جاری کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور توانائی کے بحران پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تاحال کوئی فعال بین الاقوامی کوشش دکھائی نہیں دیتی۔
مستقبل کے حوالے سے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کب کم ہوگی، لیکن موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے رابطے کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے بھی اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو اہمیت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ عالمی برادری اس تمام معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی بڑی جنگی صورتحال سے بچا جا سکے۔