World
متحدہ عرب امارات پر ایرانی میزائل حملہ، ہائی الرٹ جاری
متحدہ عرب امارات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں سراغ لگائے گئے دو میزائل ایران کی سرزمین سے فائر کیے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک انتہائی اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں فضا میں جن دو میزائلوں کا سراغ لگایا گیا تھا، وہ ایران کی سرزمین سے فائر کیے گئے تھے۔ نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (NCEMA) نے اس واقعے کے بعد فوری طور پر ایک الرٹ جاری کیا، جس میں شہریوں اور متعلقہ اداروں کو میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس نے خلیجی ممالک میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، متحدہ عرب امارات کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال شدت اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ یو اے ای کی جانب سے ان میزائلوں کے ہدف کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئیں، لیکن حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات براہ راست علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے سفارتی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب، ایران کی جانب سے تاحال ان الزامات پر باضابطہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایران کی جانب سے میزائلوں کے فائر کیے جانے کی تصدیق مزید مستند ذرائع سے ہوتی ہے تو یہ خلیجی خطے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک نئی محاذ آرائی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنی دفاعی تنصیبات کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ جولائی کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں متحدہ عرب امارات نے ایرانی سرحد سے میزائل حملوں کا براہ راست الزام عائد کیا ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر مغربی ممالک، اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ فی الحال متحدہ عرب امارات کے اہم شہری مراکز اور فوجی تنصیبات پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فوری جواب دیا جا سکے۔