World
عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملے، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
عراق میں ایران حامی ملیشیا کے خلاف مشترکہ امریکی اور سعودی فضائی حملوں کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس خطرناک کشیدگی سے مشرق وسطیٰ ایک نامعلوم اور غیر یقینی راستے پر گامزن ہو گیا ہے۔
عراق میں ایران سے منسلک عسکری گروہوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ کارروائیاں خطے میں ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر اور ان کے لاجسٹک نیٹ ورک کو نشانہ بنانا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں عراق کے اندر سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس موڑ پر پہنچ گئی ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سے خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ عراقی مسلح گروہوں نے اس کارروائی کو ایک خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے عراقی خودمختاری پامال ہوتی ہے اور خطے میں امن قائم کرنے کی تمام بین الاقوامی کوششوں کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ عراقی عسکری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا، جس سے آنے والے دنوں میں عسکری محاذ آرائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقے اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کو ایک طویل المدتی اور تباہ کن بحران میں دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔