Education
امریکہ: 30 یونیورسٹیوں کو غیر ملکی فنڈنگ کے شفاف آڈٹ کا حکم
پینٹاگون نے امریکہ کی 30 اہم یونیورسٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی مالیاتی اور تحقیقی روابط کا مکمل آڈٹ کروائیں۔ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان تعلیمی اداروں کی وفاقی تحقیقی گرانٹس منسوخ کی جا سکتی ہیں۔
امریکہ کے محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی سمیت ملک کی 30 ممتاز جامعات کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے غیر ملکی مالیاتی اور تحقیقی روابط کا مکمل اور شفاف آڈٹ کروائیں۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کہیں ان تعلیمی اداروں کو ملنے والی غیر ملکی امداد یا اشتراک سے کسی قسم کا سیکیورٹی رسک تو پیدا نہیں ہو رہا۔ حکام کے مطابق یہ عمل ان خدشات کے پیش نظر شروع کیا گیا ہے کہ کچھ غیر ملکی قوتیں امریکی یونیورسٹیوں کی جدید تحقیق تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ یونیورسٹیوں کو اپنی مالیاتی لین دین اور تحقیقی شراکت داری کی تفصیلی رپورٹ جمع کروانی ہوگی۔ اگر کوئی ادارہ اس آڈٹ کے عمل کو مکمل کرنے میں ناکام رہتا ہے یا غیر شفافیت کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان نتائج میں سب سے اہم وفاقی تحقیقی فنڈز کی بندش ہے، جس کے بغیر ان یونیورسٹیوں کے کئی اہم سائنسی اور تکنیکی پروجیکٹس رک سکتے ہیں۔ محکمہ دفاع کا ماننا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ محفوظ رہنا چاہیے اور یہ تحقیق ملک کے مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
اس فیصلے کے بعد امریکی تعلیمی حلقوں میں ایک ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ اب اپنے ریکارڈز کی جانچ پڑتال میں مصروف ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ علمی تحقیق میں بین الاقوامی تعاون ضروری ہوتا ہے، تاہم قومی سلامتی پر سمجھوتہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ہارورڈ اور دیگر بڑی یونیورسٹیاں پینٹاگون کی اس ڈیڈ لائن پر کس طرح ردعمل دیتی ہیں اور کیا وہ اپنی تحقیقی آزادی اور حکومتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھ پائیں گی۔ اس پیش رفت کو امریکہ کی بدلتی ہوئی خارجہ اور داخلی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی اور تحقیق کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔