LIVE
Loading Breaking News...

بی وائی ڈی ڈینزا زی: دنیا کی تیز ترین اور سستی الیکٹرک اسپورٹس کار

News Image
بی وائی ڈی کی ذیلی کمپنی ڈینزا نے ایک ایسی الیکٹرک اسپورٹس کار متعارف کرائی ہے جو حیران کن طور پر 1500 ہارس پاور کے ساتھ دو سیکنڈ سے کم وقت میں صفر سے 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔ یہ گاڑی اپنی شاندار کارکردگی اور پورشے 911 ٹربو ایس کے مقابلے میں سستی قیمت کی وجہ سے مارکیٹ میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
چین کی معروف الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنی بی وائی ڈی (BYD) نے اپنی ذیلی برانڈ ڈینزا کے تحت ایک ایسی الیکٹرک سپر کار متعارف کروائی ہے جس نے عالمی آٹوموبائل مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ نئی ڈینزا زی (Denza Z) اپنی جدید ٹیکنالوجی اور بے مثال طاقت کی بدولت دنیا کی صف اول کی اسپورٹس کاروں، خاص طور پر پورشے (Porsche) کو ٹکر دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گاڑی نہ صرف رفتار میں پورشے سے بازی لے گئی ہے بلکہ اس کی قیمت بھی حریف گاڑیوں کے مقابلے میں کافی کم رکھی گئی ہے۔ اس گاڑی کی سب سے بڑی خاصیت اس کا طاقتور ٹرائی موٹر سیٹ اپ ہے، جو 1500 ہارس پاور سے زائد کی قوت فراہم کرتا ہے۔ اس غیر معمولی طاقت کی بدولت یہ گاڑی صفر سے 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار صرف دو سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر لیتی ہے، جو اسے دنیا کی تیز ترین پروڈکشن گاڑیوں میں شامل کرتا ہے۔ بی وائی ڈی کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ چینی کمپنیاں اب الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں جدید ترین انجینئرنگ اور ڈیزائن میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ مزید برآں، ڈینزا زی کی قیمت کو پورشے 911 ٹربو ایس کے مقابلے میں کافی کم رکھا گیا ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو الیکٹرک اسپورٹس کاروں کی طرف راغب کرنا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی وائی ڈی کا یہ جارحانہ انداز پورشے جیسی لگژری کار بنانے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی اب بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اس کار کو بڑے پیمانے پر متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس نئی الیکٹرک سپر کار کے متعارف ہونے سے آٹوموبائل کی دنیا میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا روایتی اسپورٹس کاریں اب الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں اپنی اہمیت کھو رہی ہیں۔ بی وائی ڈی نے نہ صرف کارکردگی بلکہ سستی اور پائیدار سفر کے تصور کو بھی عملی جامہ پہنایا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کے کار شوقین افراد اس نئی چینی شاہکار کو کس حد تک قبول کرتے ہیں اور دیگر کمپنیاں اس کے جواب میں کیا حکمت عملی اپناتی ہیں۔