Business
وال اسٹریٹ میں مندی، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر
وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ سرمایہ کار اب اہم ریٹیل کمپنیوں کے سہ ماہی مالیاتی نتائج کے منتظر ہیں جو مارکیٹ کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز غیر یقینی کی صورتحال دیکھی گئی جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکسز میں واضح گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 270 پوائنٹس سے زیادہ نیچے گر گئی، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ٹیکنالوجی اسٹاکس پر بھی دباؤ ڈالا ہے، کیونکہ ٹریژری یلڈز (Treasury Yields) میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں قیمتوں کا اوپر جانا جہاں تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، وہیں یہ افراط زر کے خدشات کو ہوا دے رہا ہے جس سے صارفین کی قوت خرید پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ان حالات کے پیش نظر وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کار اب بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔
اب مارکیٹ کے تمام کھلاڑیوں کی نظریں بڑی ریٹیل کمپنیوں کے سہ ماہی مالیاتی نتائج پر مرکوز ہیں۔ یہ نتائج اس بات کا اشارہ دیں گے کہ امریکی صارفین معاشی دباؤ کے باوجود کس طرح خرچ کر رہے ہیں، اور کیا کمپنیاں بڑھتی ہوئی لاگت کو سنبھالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اگر ریٹیل سیکٹر کے اعداد و شمار توقعات سے کمزور رہے تو اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے چند دن مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہیں، وہیں فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور معاشی ڈیٹا کے ملا جلا اثرات بھی سرمایہ کاروں کے اعصاب پر سوار ہیں۔ فی الحال بازار میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کی توقع ہے، اور سرمایہ کار کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل مزید واضح معاشی اشاروں کے منتظر دکھائی دے رہے ہیں۔