Health
ہوائی سفر اور کینسر کا خطرہ: پائلٹس اور کیبن کریو کے لیے انتباہ
نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ہوائی عملے کے ارکان کائناتی تابکاری کی بلند سطحوں کے سامنے آتے ہیں جس سے انہیں مہلک کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین نے فضائی عملے کی صحت کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور پالیسیوں میں تبدیلی پر زور دیا ہے۔
ایوی ایشن انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد بالخصوص پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس، جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہزاروں فٹ کی بلندی پر سفر کرتے ہیں، ایک ایسے خاموش خطرے سے دوچار ہیں جس کا ادراک ماضی میں بہت کم کیا گیا۔ حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، فضائی عملے کے ارکان زمین کی سطح پر موجود لوگوں کے مقابلے میں کائناتی تابکاری (Cosmic Radiation) کی کافی زیادہ مقدار کے سامنے آتے ہیں۔ یہ تابکاری ان کے صحت کے سنگین مسائل، خاص طور پر مہلک کینسر کے خطرات کو نمایاں حد تک بڑھا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے طیارہ بلندی پر جاتا ہے، ماحول کی حفاظتی تہیں کمزور ہو جاتی ہیں، جس سے زمین کی فضا میں داخل ہونے والی شمسی اور کائناتی شعاعیں براہ راست انسانی جسم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طویل عرصے تک فضائی سفر کرنے والے عملے کے ارکان میں کینسر کی تشخیص کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ پائی گئی ہے۔ ان میں جلد کے کینسر (میلانوما) کے علاوہ دیگر اندرونی اعضاء کے کینسر کے کیسز بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق، اگرچہ فضائی عملہ اپنی ملازمت کے دوران مختلف حفاظتی ضابطوں پر عمل کرتا ہے، لیکن تابکاری سے بچاؤ کے لیے کوئی بھی طریقہ کار مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ طویل مدتی بنیادوں پر یہ تابکاری انسانی خلیات اور ڈی این اے میں ایسے تغیرات پیدا کرتی ہے جو برسوں بعد کینسر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ طبی مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا ان افراد کی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت سے منسلک محققین نے ایوی ایشن کمپنیوں اور پالیسی ساز اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فضائی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنائیں۔ تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ پروازوں کے دوران تابکاری کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے اور فضائی عملے کی ڈیوٹی کے اوقات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ وہ ایک مخصوص حد سے زیادہ تابکاری کے سامنے نہ آئیں۔ اس کے علاوہ، باقاعدگی سے طبی معائنہ اور کینسر کی جلد تشخیص کے لیے اسکریننگ پروگراموں کو ہر ایئرلائن کی لازمی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگرچہ ہوائی سفر کی دنیا میں تکنیکی ترقی عروج پر ہے، لیکن عملے کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے درپیش یہ چیلنجز ایک نئے عوامی صحت کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔