World
غزہ امن منصوبہ: حماس اور کوشنر کی کوششیں اور اسرائیل کا ردعمل
حماس نے غزہ میں امن معاہدے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ جیرڈ کوشنر کے دورہ اسرائیل کے دوران کسی بڑے بریک تھرو کی خبر نہیں ملی۔ نیتن یاہو اور کوشنر کے مابین ہونے والی بات چیت میں انسانی امداد اور تخفیف اسلحہ جیسے معاملات پر ورکنگ گروپس کے قیام پر غور کیا گیا۔
غزہ میں جاری کشیدگی اور امن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ حماس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں امن معاہدے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت میں سنجیدگی سے شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی عہدیدار جیرڈ کوشنر نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن عمل کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اور کوشنر کے مابین ہونے والی بات چیت میں تاحال کوئی واضح پیش رفت یا بڑا بریک تھرو دیکھنے میں نہیں آیا۔
جیرڈ کوشنر نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات کو 'بہت اچھی' قرار دیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کے مابین بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ مذاکرات کے دوران اہم نکات میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی، علاقے میں تخفیفِ اسلحہ اور طویل مدتی سیز فائر جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں جانب سے مختلف 'ورکنگ گروپس' کے قیام کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی ہے تاکہ تکنیکی معاملات کو تیزی سے نمٹایا جا سکے۔ اگرچہ سفارتی سطح پر یہ ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن حماس اور اسرائیلی حکومت کے مابین اعتماد کا شدید فقدان اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ جیرڈ کوشنر کا یہ دورہ صرف اسرائیل تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ مستقبل قریب میں مصر کا بھی دورہ کریں گے۔ اس دورے میں ان کے ہمراہ بورڈ آف پیس کے عہدیداران بھی موجود ہوں گے، جس کا مقصد خطے کے دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص خطے کے ممالک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک پائیدار اور منصفانہ معاہدہ ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوشنر کی یہ سفارتی کوششیں کوئی ٹھوس نتیجہ لاتی ہیں یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک تعطل کا شکار ہو کر رہ جائیں گی۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ تب تک مذاکرات میں سنجیدگی دکھاتے رہیں گے جب تک فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا۔