LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا یورپی یونین مائیگریشن معاہدہ میں شمولیت کا امکان

News Image
لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما ایڈ ڈیوی نے کہا ہے کہ انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے برطانیہ کو یورپی یونین کے مائیگریشن معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے سمندری راستے سے غیر قانونی نقل مکانی کے کاروبار کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما ایڈ ڈیوی نے ایک اہم بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بحران پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین کے مائیگریشن معاہدے میں شامل ہو جائے۔ ڈیوی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے موجودہ امیگریشن قوانین ان مجرمانہ گروہوں کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہو رہے جو انسانی اسمگلنگ کا دھندہ چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہی ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ ایڈ ڈیوی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے مائیگریشن پیکٹ میں شمولیت سے برطانیہ کو ان جرائم پیشہ گروہوں کے 'بزنس ماڈل' کو تباہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ فی الحال یہ گروہ انتہائی خطرناک راستوں کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں اور حکومت کو ان کی کمر توڑنے کے لیے ایک مشترکہ بین الاقوامی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ لبرل ڈیموکریٹس کے اس موقف کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تجویز برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد کے تعلقات کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ واضح رہے کہ انگلش چینل کے راستے آنے والی چھوٹی کشتیوں کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے برطانوی سیاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سابقہ حکومتوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی سخت قوانین متعارف کروائے تھے، تاہم انسانی اسمگلروں کی کارروائیوں میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔ ایڈ ڈیوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پر امیگریشن کے مسائل پر قابو پانے کے لیے شدید دباؤ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون بڑھانا ایک عملی حل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے برطانوی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ آخر میں، لبرل ڈیموکریٹ رہنما نے اس بات پر اصرار کیا کہ انسانیت کے ناتے اور قومی سلامتی کے پیشِ نظر یہ ضروری ہے کہ سرحدوں کا انتظام جدید اور مربوط بنایا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کسی بھی تعصب سے بالاتر ہو کر ان اقدامات کو ترجیح دے جو واقعی غیر قانونی نقل مکانی کی حوصلہ شکنی کر سکیں۔ اگر برطانیہ اس معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو توقع ہے کہ یورپی ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور بارڈر کنٹرول میں بہتری آئے گی، جس سے سمندری راستوں پر موجود ان خطرات کو کم کیا جا سکے گا جو آج ایک بڑا انسانی المیہ بن چکے ہیں۔