LIVE
Loading Breaking News...

فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ اور اندرونی اختلافات

News Image
امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے موجودہ اقتصادی صورتحال اور بلند شرحِ تضادم کے پیش نظر شرح سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، ایک اہم فیصلے میں تین پالیسی سازوں نے شرح سود میں اضافے کے حق میں اختلافِ رائے کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن (نیکسرہ نیوز اردو) امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے ملک میں افراط زر کے دباؤ اور اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود کو فی الحال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معاشی ماہرین اور تاجر دنیا بھر میں جاری مالیاتی تبدیلیوں اور کساد بازاری کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح ابھی تک بلند سطح پر برقرار ہے، جس کی وجہ سے محتاط مالیاتی پالیسی اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے دوران فیڈرل ریزرو کی کمیٹی کے اندر نمایاں اختلافات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تین پالیسی سازوں نے مرکزی بینک کے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور شرح سود میں مزید اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ ان حکام کا مؤقف تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو مکمل طور پر قابو میں لانے کے لیے شرح سود میں سختی کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس اختلافِ رائے کو مالیاتی منڈیوں میں کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آئندہ آنے والے فیصلوں میں شرح سود میں اضافے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ اور دیگر عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس فیصلے کے بعد ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کار اس بات کا تجزیہ کر رہے ہیں کہ مرکزی بینک کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوگی، خصوصاً جب ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں جیسے کہ میٹا اور مائیکروسافٹ کی سہ ماہی آمدنی کے نتائج بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر کے اعداد و شمار اور روزگار کے مواقع کے رجحانات ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ فیڈرل ریزرو اپنی پالیسی میں کس قسم کی تبدیلیاں لاتا ہے۔