LIVE
Loading Breaking News...

امریکی جنگلات کے تحفظ کے قوانین میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے جنگلات کے تحفظ کے لیے 2001 میں بنائے گئے قوانین کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یہ اقدام مقامی سطح پر جنگلات کے انتظام کو بہتر بنانے اور آگ لگنے کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
امریکی محکمہ زراعت کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ 2001 میں وضع کیے گئے ان خصوصی قوانین کو ختم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے جو امریکہ بھر میں وسیع رقبے پر محیط جنگلات کے تحفظ کو یقینی بناتے تھے۔ اس متنازعہ اقدام کا مقصد ان علاقوں میں وفاقی سطح پر عائد سخت پابندیوں کو نرم کرنا ہے تاکہ مقامی انتظامیہ اور ریاستی حکام کو جنگلات کے وسائل کے استعمال اور انتظام کے حوالے سے زیادہ خود مختاری حاصل ہو سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلیاں جنگلات کے انتظام کو زیادہ مؤثر بنائیں گی اور مقامی ضروریات کے مطابق فیصلوں کا راستہ ہموار کریں گی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ پرانے قوانین نے جنگلات کے انتظام میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، جس کی وجہ سے خشک گھاس اور جھاڑیوں کے بڑھنے سے جنگل کی آگ (وائلڈ فائر) کا خطرہ کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ محکمہ زراعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ضابطوں میں نرمی کے بعد مقامی سطح پر جنگلات کی صفائی اور دیگر حفاظتی اقدامات کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے گا، جس سے آگ لگنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مقامی مینیجرز زمین کی نوعیت اور خطرات کو وفاقی بیوروکریٹس سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں اور انہیں فوری فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ دوسری جانب، ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس حکومتی اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 2001 کے یہ قوانین جنگلات کے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو انسانوں کی بے جا مداخلت اور کمرشل مقاصد کے لیے ہونے والی کٹائی سے بچانے کے لیے انتہائی اہم تھے۔ تحفظِ ماحول کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان ضابطوں کے خاتمے سے کارپوریٹ سیکٹر کو جنگلات کے وسیع علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کا موقع مل جائے گا، جس سے ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ اب جبکہ یہ معاملہ ملکی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں قانونی چارہ جوئی اور عوامی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام جنگلات کو بہتر طور پر محفوظ رکھنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا متوازن حل ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عدالتی فورمز اور عوامی دباؤ اس پالیسی پر نظرثانی کرواتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ آنے والے برسوں میں امریکہ کی ماحولیاتی پالیسی اور جنگلات کے تحفظ کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔