World
شام کے جوہری پروگرام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات کا آغاز
شام کی حکومت نے پہلی بار اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو اپنے خفیہ مقامات پر موجود جوہری مواد کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ شام کی حکومت نے بشار الاسد کے دورِ اقتدار میں شروع کیے گئے اپنے خفیہ جوہری پروگرام کی تحقیقات کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس پیش رفت کا آغاز تب ہوا جب عالمی نگران ادارے نے شام کے متعدد ایسے مقامات پر غیر معمولی مقدار میں جوہری مواد کی موجودگی کا سراغ لگایا جنہیں اب تک حکومتی سطح پر خفیہ رکھا گیا تھا۔ عالمی برادری کی جانب سے طویل عرصے سے جاری دباؤ کے بعد دمشق کی جانب سے یہ ایک غیر متوقع مگر اہم اقدام ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات شام کے ان خفیہ جوہری ٹھکانوں کی حقیقت جاننے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی نگرانی کے دائرہ کار سے باہر تھے۔ جوہری نگران ادارے کے انسپکٹرز اب ان مقامات کا دورہ کریں گے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ وہاں موجود مواد کا مقصد پرامن تحقیق تھا یا اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس اقدام سے خطے میں موجود سیکیورٹی خدشات اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ شام کا یہ فیصلہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کی پاسداری کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے، تاہم مکمل حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اگرچہ ماضی میں شام کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے، لیکن اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے شواہد کی فراہمی کے بعد دمشق کے پاس تعاون کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ آنے والے دنوں میں تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جوہری مواد کی یہ دریافت عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی تھی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ شام کے کسی بھی خفیہ جوہری پروگرام کا رخ غلط سمت میں نہ مڑے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہوں گی اور آیا شام اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے تمام تر حقائق کو منظر عام پر لانے کے لیے تیار ہے۔