LIVE
Loading Breaking News...

وال اسٹریٹ پر شدید دباؤ، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی لہر

News Image
وال اسٹریٹ پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ دیکھی گئی جس کی اہم وجہ بانڈ کی پیداوار میں اضافہ اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی ہے۔ آبنائے ہرمز پر پیش رفت نہ ہونے اور بین الاقوامی حالات کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔
نیویارک میں وال اسٹریٹ پر پیر کے روز حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں اچانک اضافہ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں عدم دلچسپی اور محتاط رویہ مارکیٹ پر حاوی رہا، جس کے نتیجے میں اہم انڈیکس گراوٹ کا شکار ہوئے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہمیشہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک منفی اشارہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ سرمایہ کاروں کو زیادہ رسک والے اسٹاکس سے نکال کر محفوظ سرکاری بانڈز کی طرف راغب کرتا ہے۔ دوسری جانب، عالمی توانائی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مارکیٹ کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری تناؤ اور وہاں حالات کو معمول پر لانے میں ناکامی کے باعث تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے، جس کے اثرات براہ راست اسٹاک مارکیٹ پر مرتب ہوئے ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں اور دیگر صنعتی ادارے مہنگی توانائی کی وجہ سے اپنے منافع کے مارجن کو لے کر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہے کیونکہ وہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور امریکی معاشی پالیسیوں کے تضادات کو گہرائی سے دیکھ رہے ہیں۔ جب تک بانڈ کی پیداوار مستحکم نہیں ہوتی اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی برقرار رہتی ہے، تب تک وال اسٹریٹ پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پیر کا سیشن اس بات کا عکاس تھا کہ کس طرح بین الاقوامی واقعات اور معاشی اشاریے براہ راست سرمایہ کاری کے رجحانات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ٹریڈرز کی نظریں امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے بیانات اور مزید معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہوں گی جو مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔