Technology
انویدیا کی ایس بی انرجی میں بڑی سرمایہ کاری، اوپن اے آئی کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز قائم
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا کی بڑی کمپنی انویدیا نے اوپن اے آئی کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کی خاطر جاپانی کمپنی سافٹ بینک کی ذیلی تنظیم ایس بی انرجی میں 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اوہائیو کے ٹیکنالوجی کیمپس میں 8 گیگا واٹ تک اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے والی معروف کمپنی 'انویدیا' نے حال ہی میں ایک بڑے کاروباری معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ 'ایس بی انرجی' (SB Energy) میں 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ ایس بی انرجی جاپانی ملٹی نیشنل کمپنی سافٹ بینک کی ایک ذیلی شاخ ہے جو توانائی کے شعبے میں نمایاں کام کر رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد اوپن اے آئی (OpenAI) کے بڑھتے ہوئے کمپیوٹنگ مطالبات کو پورا کرنا ہے، تاکہ مستقبل کی اے آئی ٹیکنالوجیز کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
اس معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، یہ سرمایہ کاری اوہائیو میں قائم ایک وسیع و عریض ٹیکنالوجی کیمپس میں اے آئی کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو 8 گیگا واٹ تک بڑھانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈلز کی تربیت اور ان کے آپریشنز کے لیے بے پناہ بجلی اور ڈیٹا پروسیسنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے، اور انویدیا کا یہ اقدام اسی ضرورت کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اشتراک نہ صرف اوپن اے آئی کی کارکردگی کو بڑھائے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کی انفراسٹرکچر کو نئی جہت فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ انویدیا اس وقت دنیا کی ان چند کمپنیوں میں شامل ہے جو اے آئی چپس کے بازار پر راج کر رہی ہیں۔ دوسری جانب سافٹ بینک کے تعاون سے چلنے والی ایس بی انرجی، قابل تجدید توانائی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں مہارت رکھتی ہے۔ ان دونوں اداروں کے درمیان یہ شراکت داری ظاہر کرتی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اے آئی کے لیے ضروری توانائی اور کمپیوٹنگ وسائل کو ایک ساتھ مربوط کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
اس پیش رفت سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے اور اوہائیو کا یہ ٹیکنالوجی کیمپس آنے والے برسوں میں اے آئی تحقیق کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔ صنعت کے تجزیہ کاروں کے مطابق، انویدیا کا یہ اقدام اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا مستقبل بڑے ڈیٹا سینٹرز اور ان کے لیے درکار توانائی کی بلاتعطل فراہمی پر منحصر ہے۔ یہ معاہدہ تکنیکی ترقی کی دوڑ میں شامل تمام اداروں کے لیے ایک نئی مثال بنے گا۔