Technology
ناسا کا نیا تحقیقی طیارہ: خفیہ امریکی فضائیہ کے ماضی سے ناسا کے مشن تک
ناسا نے اپنے نئے ریڈیوسڈ گریویٹی ریسرچ طیارے کا اعلان کر دیا ہے جو ماضی میں امریکی فضائیہ کے لیے خفیہ ٹیسٹ بیڈ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ بوئنگ 737-700 اب خلا میں کشش ثقل کے تجربات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے باضابطہ طور پر اپنے نئے 'ریڈیوسڈ گریویٹی' ریسرچ طیارے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عام زبان میں 'ومٹ کومٹ' کہا جاتا ہے۔ یہ طیارہ بنیادی طور پر ایک بوئنگ 737-700 ہے، جس کی رجسٹریشن اب N837NA ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طیارے کی تاریخ کافی پراسرار رہی ہے، کیونکہ یہ طویل عرصے تک امریکی فضائیہ کے زیر استعمال رہا اور بطور ایک انتہائی خفیہ 'فلائنگ ٹیسٹ بیڈ' کام کرتا رہا۔ ماضی میں اس طیارے کا رجسٹریشن نمبر N712JM تھا اور یہ امریکی عسکری شعبے کے اہم تحقیقی منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
13 اگست 2026 کو ناسا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اب اس طیارے کو جدید سائنسی آلات سے لیس کر کے خلا میں کم کشش ثقل (Reduced Gravity) کے تجربات کے لیے دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ اپنی پرواز کے دوران ایسے حالات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن سے خلابازوں اور محققین کو خلا میں کشش ثقل کی عدم موجودگی کا تجربہ حاصل ہو سکے۔ یہ تحقیق ناسا کے مستقبل کے خلائی مشنز اور چاند و مریخ پر جانے والے انسانی وفود کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس بوئنگ 737-700 کی شمولیت سے ناسا کی تحقیقی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس طیارے کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ مختصر مدت کے لیے صفر کشش ثقل کا ماحول فراہم کر سکے، جس کے دوران سائنسی تجربات کیے جا سکیں گے۔ طیارے کا عسکری پس منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ انتہائی مشکل حالات میں بھی عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نئے طیارے کے ساتھ ناسا اب اپنے خلائی تحقیقی پروگراموں میں مزید تیزی لانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ انسانوں کو زمین سے باہر طویل قیام کے لیے تیار کیا جا سکے۔
اس طیارے کی تبدیلی صرف ایک نیا رجسٹریشن نمبر لینے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ناسا کی تکنیکی ترقی کی ایک بڑی مثال ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ طیارہ مختلف سائنسی تجربات کا مرکز بنے گا، جس سے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی راہیں کھلیں گی۔ ناسا کی جانب سے اس طیارے کو عوامی سطح پر متعارف کروانے کے بعد، اس کی خفیہ فوجی تاریخ اب خلائی تحقیق کے ایک شفاف اور روشن باب میں بدل چکی ہے۔