Health
صحت کی جانچ کے لیے آواز کا استعمال: پریڈیکیٹ سٹارٹ اپ کی نئی ٹیکنالوجی
صحت کے شعبے میں کام کرنے والی نئی سٹارٹ اپ کمپنی پریڈیکیٹ آواز کے اتار چڑھاؤ اور جسمانی علامات کی مدد سے بیماریوں کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ اس جدید پلیٹ فارم کا مقصد مریضوں کی صحت کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ کر بروقت طبی امداد فراہم کرنا ہے۔
امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے شہر ولمنگٹن میں ایک طبی ماہر اور کاروباری شخصیت مورس نگوئن نے ایک ایسی اختراعی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو انسانی صحت کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے آواز کے نمونوں اور جسمانی علامات (وائٹل سائنز) کا تجزیہ کرتی ہے۔ ان کی قائم کردہ سٹارٹ اپ کمپنی 'پریڈیکیٹ' (Predicate) کا بنیادی مقصد مریضوں کی آواز کو ایک اہم طبی اشارے کے طور پر استعمال کرنا ہے تاکہ سنگین بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی ان کا پتہ لگایا جا سکے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کے اصولوں پر مبنی ہے جو آواز کی باریکیوں اور جسمانی تبدیلیوں کو ایک ساتھ پروسیس کرکے نتائج فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانی آواز میں ایسے کئی خفیہ اشارے چھپے ہوتے ہیں جو کسی بھی شخص کی اندرونی طبی حالت کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ پریڈیکیٹ کا پلیٹ فارم اسی اصول کو بروئے کار لاتا ہے۔ کمپنی کے بانی مورس نگوئن کے مطابق، مریض کی آواز کا لہجہ، رفتار، اور اس میں موجود لرزش جیسے عوامل ڈاکٹروں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ جسم کے اندر کون سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس عمل کے دوران مریض کے وائٹل سائنز یعنی نبض، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح جیسے ڈیٹا کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جس سے صحت کی مجموعی صورتحال کا ایک جامع خاکہ تیار ہوتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے طبی میدان میں وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں کے لیے جنہیں فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ پریڈیکیٹ کا یہ پلیٹ فارم بیماریوں کی جلد تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جس سے بروقت علاج کی راہ ہموار ہوگی اور ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکے گا۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے، لیکن ہیلتھ کیئر سیکٹر سے وابستہ افراد اسے صحت کی نگرانی کے مستقبل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں یہ پلیٹ فارم طبی سہولیات کو مزید سستا اور عام آدمی کی پہنچ میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پریڈیکیٹ کی اس کوشش کو طبی دنیا میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کے علاج بلکہ ان کی روک تھام کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مورس نگوئن کی قیادت میں یہ ادارہ اب اس ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ اسے روزمرہ کی طبی پریکٹس میں باقاعدگی سے استعمال کیا جا سکے اور مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔