World
یو ایس ایس لنکن: امریکی بحریہ کا طویل ترین مشن اور عملے کو درپیش چیلنجز
بی بی سی ویریفائی کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس لنکن کے طویل ترین مشن کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مشن کی طوالت کے ساتھ ساتھ جہاز پر تعینات عملے کے حالاتِ زندگی اور نفسیاتی و جسمانی صحت پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
امریکی بحریہ کے طاقتور جنگی جہاز یو ایس ایس لنکن کا موجودہ مشن تاریخ کے طویل ترین تعیناتیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ بی بی سی ویریفائی کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہاز گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل سمندر میں موجود ہے اور مختلف اسٹریٹجک مقامات پر اپنی موجودگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس طویل تعیناتی نے نہ صرف عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ امریکی بحریہ کے اندرونی انتظامی امور پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اتنے طویل عرصے تک سمندر میں رہنے سے جنگی جہاز کی تکنیکی صلاحیت اور اس پر موجود عملے کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس مشن کے دوران سب سے زیادہ تشویش کا موضوع جہاز پر تعینات عملے کی زندگی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلسل کئی ماہ تک محدود جگہ اور جنگی ماحول میں رہنے سے عملے کو شدید نفسیاتی دباؤ، تھکاوٹ اور تنہائی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ امریکی بحریہ اپنے عملے کی فلاح و بہبود کے لیے پروٹوکولز کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم طویل تعیناتیوں کی وجہ سے ہونے والی تھکاوٹ (Fatigue) اب ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلسل سمندری سفر اور گھر سے دوری، خاص طور پر ہائی الرٹ کی صورتحال میں، فوجیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جس سے مستقبل میں ان کی آپریشنل صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
سیٹلائٹ امیجری سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق، یو ایس ایس لنکن کی نقل و حرکت انتہائی حساس علاقوں میں دیکھی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عسکری قیادت اس جہاز کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔ تاہم، اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ طویل تعیناتیاں پائیدار ہیں یا نہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک جہاز کو سمندر میں رکھنے سے نہ صرف عملے کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ جہاز کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے درکار وقت میں بھی کمی آتی ہے، جو طویل المدتی بنیادوں پر خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
مستقبل قریب میں، امریکی بحریہ کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ آپریشنل اہداف اور اپنے فوجیوں کی فلاح و بہبود کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔ ابھی تک حکام کی جانب سے عملے کی صورتحال پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے شواہد اور اندرونی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یو ایس ایس لنکن کا یہ سفر عسکری تاریخ میں ایک مثال بن چکا ہے جس کے اثرات کا طویل عرصے تک مطالعہ کیا جائے گا۔