Business
عالمی مارکیٹ: تیل مہنگا اور مصنوعی ذہانت کے خدشات سے حصص بازار میں اتار چڑھاؤ
مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کی صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران کے معاملے پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کار خطے میں ممکنہ تناؤ کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، جس کے اثرات براہ راست خام تیل کی سپلائی اور نرخوں پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے ممکنہ مالیاتی خطرات یا بلبلے کے خدشات نے حصص بازاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حالیہ تیز رفتار ترقی پائیدار ہے یا نہیں، جس کی وجہ سے شیئر مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ عالمی اقتصادی منظر نامہ انتہائی حساس موڑ پر ہے۔ ایک طرف تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو ہوا دے رہی ہیں تو دوسری طرف ٹیکنالوجی کے محاذ پر مصنوعی ذہانت کے گرد گھومتی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ منڈیوں میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے تاہم آنے والے ہفتے سرمایہ کاری کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوں گے۔