Business
ٹیکنالوجی انڈسٹری میں اربوں ڈالر کا نقصان: لیوپولڈ ایشین برنر کی کہانی
مصنوعی ذہانت کے ماہر لیوپولڈ ایشین برنر کے 5 ارب ڈالر کے دو غلط سٹے بازی کے فیصلوں نے ان کے 45 ارب ڈالر کے ہیج فنڈ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اس بڑی ناکامی کے بعد انہیں ایک ہی رات میں 30 ارب ڈالر کے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے ماہر مانے جانے والے لیوپولڈ ایشین برنر کو اس وقت ایک بڑے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی جانب سے کیے گئے 5 ارب ڈالر کے دو بڑے سٹے (Bets) مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ ایشین برنر، جنہیں اکثر مصنوعی ذہانت کے میدان میں 'نوسٹراڈیمس' کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، کے بارے میں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ان کے 45 ارب ڈالر کے ہیج فنڈ کو انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ان کی کیلیفورنیا میں ہونے والی پرتعیش شادی سے چند روز قبل پیش آیا، جس نے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ ماہرین کے مطابق یہ ناکامی محض ایک مالی خسارہ نہیں بلکہ ان کی کاروباری حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس سنگین صورتحال کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ ایشین برنر نے مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کو بھانپنے میں غلطی کی۔ جب ان کے 5 ارب ڈالر کے پوزیشنز مارکیٹ میں الٹ گئے تو اس کا اثر ان کے پورے مالیاتی پورٹ فولیو پر پڑا۔ صرف ایک رات کے وقفے میں، ان کی دولت میں 30 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی، جو کہ دنیا کی تاریخ کے تیز ترین مالی نقصانات میں سے ایک ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیوپولڈ ایشین برنر نے ضرورت سے زیادہ رسک لینے کی کوشش کی، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔
اس واقعے نے سرمایہ کاری کرنے والے دیگر اداروں کو بھی چوکس کر دیا ہے۔ ایشین برنر کا ہیج فنڈ، جسے 'سچویشنل اویئرنس' (Situational Awareness) کا نام دیا گیا تھا، اپنی تیزی سے ترقی کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا، تاہم اب اسے اپنے وجود کو بچانے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ اس بڑے پیمانے کے نقصان نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے، ایک چھوٹی سی غلطی بھی کتنا بڑا مالی سانحہ پیدا کر سکتی ہے۔ فی الحال ایشین برنر کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن مارکیٹ کے ماہرین اسے ایک 'سبق آموز کہانی' قرار دے رہے ہیں۔