Technology
موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس: ویدر نیکسٹ ٹیکنالوجی کے فوائد
گوگل ڈیپ مائنڈ کی تیار کردہ ویدر نیکسٹ ٹیکنالوجی نے موسمیاتی پیش گوئی میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ جدید اے آئی سسٹم روایتی طریقوں کے مقابلے میں سمندری طوفانوں کا پتہ 24 گھنٹے پہلے لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ نے موسمیات کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے 'ویدر نیکسٹ' (WeatherNext) نامی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل متعارف کرایا ہے، جو سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کے روایتی نظاموں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں طوفانوں کی شدت اور ان کی غیر متوقع رفتار نے ماہرینِ موسمیات کو شدید دباؤ میں رکھا ہے۔ 2025 میں جمیکا سے ٹکرانے والے سمندری طوفان 'میلیسا' نے ثابت کیا کہ پرانے سائنسی ماڈل اب تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا کا درست تجزیہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، تاہم ویدر نیکسٹ نے اس خلا کو پر کر دیا ہے۔
اس اے آئی ماڈل کی سب سے بڑی خوبی اس کی 'پیشگی آگاہی' کی صلاحیت ہے۔ روایتی پیش گوئی کے نظاموں کے برعکس، جو طوفان کے بننے اور اس کے راستے کا تعین کرنے میں وقت لیتے ہیں، ویدر نیکسٹ ڈیٹا کے وسیع ذخیرے کا استعمال کرتے ہوئے ایک دن قبل ہی طوفان کے بننے اور اس کی شدت میں اضافے کا درست اندازہ لگا لیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ موسمیاتی نمونوں کو سیکنڈوں میں پرکھ کر یہ بتا دیتی ہے کہ طوفان کس سمت مڑے گا اور اس کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان کتنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت قدرتی آفات کے دوران انخلا کے عمل کو بہتر بنانے اور قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ڈیپ مائنڈ کے انجینئرز کے مطابق، ویدر نیکسٹ کی تربیت کے دوران گزشتہ کئی دہائیوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور زمینی موسمیاتی اسٹیشنوں سے حاصل کردہ معلومات کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف طوفانوں کی سمت بلکہ ان کی شدت کے بارے میں بھی حیرت انگیز درستگی کا حامل ہے۔ ماضی میں 'میلیسا' جیسے طوفان اچانک شدت اختیار کر لیتے تھے جس سے بچاؤ کا وقت کم ملتا تھا، لیکن اب اے آئی کے ذریعے حکام کو درکار وقت مل سکے گا تاکہ وہ مقامی آبادی کو بروقت منتقل کر سکیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا سکیں۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کا دائرہ کار صرف سمندری طوفانوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ بارشوں، سیلابوں اور گرمی کی شدید لہروں کی پیش گوئی کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا یہ استعمال موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک عالمی ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ جیسے جیسے ویدر نیکسٹ کا نیٹ ورک مزید وسعت اختیار کرے گا، دنیا بھر کے ممالک موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے قابل ہو سکیں گے، جس سے گلوبل وارمنگ کے دور میں انسانی معاشروں کی لچک اور قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا۔