Technology
امریکہ میں فضائی نظام کی ناکامی، ایلون مسک اور پیلانٹیر پر تنقید
اگست کے اوائل میں امریکہ کے فضائی ٹریفک کنٹرول سینٹر میں دو گھنٹے تک مواصلاتی رابطہ منقطع رہا جس سے ایک ہزار سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد ایلون مسک کی ٹیکنالوجی اور پیلانٹیر کے منافع کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگست کے مہینے میں امریکہ کے فضائی نظام کو ایک بڑے تکنیکی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جب منیاپولس ایئر روٹ ٹریفک کنٹرول سینٹر کا ریڈار اور مواصلاتی رابطہ اچانک دو گھنٹے کے لیے منقطع ہو گیا۔ اس سنگین خرابی کے نتیجے میں نو ریاستوں پر محیط تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار مربع میل کے فضائی حدود میں 1100 سے زائد پروازیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ یہ واقعہ نہ صرف مسافروں کے لیے اذیت کا باعث بنا بلکہ اس نے امریکی ہوابازی کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ اس طرح کے تکنیکی تعطل نے فضائی سفر کے حفاظتی معیارات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سے ٹیکنالوجی کے حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا اس طرح کی ناکامیوں کے پیچھے نجی کمپنیوں کا مفاد کارفرما ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے مواصلاتی ٹیکنالوجی میں کی جانے والی تبدیلیاں اور پیلانٹیر (Palantir) جیسی کمپنیوں کا ڈیٹا اینالیٹکس کا کاروبار بالواسطہ طور پر ہوابازی کے نظام کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کمپنیوں کے سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی کے انضمام سے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں جن سے نمٹنے کے لیے سسٹم تیار نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق، پیلانٹیر جیسی بڑی کمپنیاں جو حکومتوں کو ڈیٹا پروسیسنگ اور نگرانی کے نظام فراہم کرتی ہیں، ان کا بنیادی مقصد منافع کا حصول ہے۔ جب حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کے انضمام میں شفافیت کی کمی ہوتی ہے اور نجی کمپنیوں کو کلیدی کردار دیا جاتا ہے، تو اس کے نتائج اکثر عام عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ فضائی نظام میں آنے والا یہ خلل محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سٹریٹجک اثاثوں کی نجی ملکیت کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اب تک حکام کی جانب سے اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، تاہم متاثرہ مسافر اور ایوی ایشن انڈسٹری کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہوابازی جیسے حساس شعبے میں کسی بھی قسم کی تجرباتی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اگر ایلون مسک یا پیلانٹیر جیسی کمپنیوں کے کردار نے واقعی اس تعطل میں حصہ ڈالا ہے، تو یہ ٹیکنالوجی کی حکمرانی اور قومی سلامتی کے درمیان ایک بڑا تنازعہ ثابت ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے جس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ محض حادثہ تھا یا منظم نقائص کا نتیجہ۔