LIVE
Loading Breaking News...

لاس اینجلس میں گن پرمٹ کا عمل تیز، شیرف ڈیپارٹمنٹ کو بڑی شکست

News Image
لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف ڈیپارٹمنٹ نے امریکی محکمہ انصاف کے دباؤ کے بعد چھپے ہوئے ہتھیار لے جانے کے پرمٹ کے عمل میں ہونے والی طویل تاخیر کو ختم کر دیا ہے۔ ہزاروں درخواست دہندگان کے لیے اب لائسنس کے حصول کا عمل تیز تر ہو گیا ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی میں گن پرمٹ یا چھپے ہوئے ہتھیار لے جانے کی اجازت کے خواہشمند شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ ایک طویل قانونی جنگ اور امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کے بعد، لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف ڈیپارٹمنٹ (LASD) نے آخر کار اپنے اجازت ناموں کے اجراء کے عمل میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ اس سے قبل ہزاروں شہری اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے برسوں تک انتظار کرنے پر مجبور تھے، جس پر محکمہ انصاف نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ انتظامی رکاوٹیں اور عملے کی کمی کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کی سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد، حکام نے درخواستوں کے عمل کو خودکار بنانے اور عملے کی تعداد میں اضافے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ شیرف ڈیپارٹمنٹ نے تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں درخواستوں کا بیک لاگ اتنا بڑھ گیا تھا کہ عام شہریوں کو کئی سال کا انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔ اب، نئے انتظامی فیصلوں کے تحت نہ صرف پرانی درخواستوں کو فوری نمٹایا جا رہا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک شفاف اور تیز تر نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا خیرمقدم شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور گن اونر ایسوسی ایشنز کی جانب سے کیا گیا ہے، جنہوں نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی عدالتی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے جہاں حکومتی ایجنسی کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مجبور کیا گیا۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس دیگر ریاستوں اور کاؤنٹیوں کے لیے بھی ایک سبق ہے جہاں انتظامی سستی کی وجہ سے لائسنسنگ کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ لاس اینجلس میں اب صورتحال یہ ہے کہ درخواست دہندگان کو درکار کاغذی کارروائی کے بعد نسبتاً کم وقت میں اجازت نامے موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ محکمہ انصاف اس پورے عمل کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شیرف ڈیپارٹمنٹ مستقبل میں دوبارہ ایسی کوتاہیوں کا مرتکب نہ ہو۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کا نظامِ انصاف پر اعتماد بحال ہوا ہے، کیونکہ انہیں اب اپنی ذاتی سکیورٹی کے لیے برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ اقدام امریکی معاشرے میں اسلحہ رکھنے کے قانونی حق اور حکومتی جوابدہی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔