LIVE
Loading Breaking News...

گوگل اور ایمیزون کا ڈیٹا سینٹرز کے لیے جدید بیٹری اسٹوریج میں بڑا سرمایہ کاری اقدام

News Image
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی مسلسل بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گوگل اور ایمیزون بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ اقدام شمسی توانائی کی عدم موجودگی میں ڈیٹا سینٹرز کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ڈیٹا سینٹرز کی وسیع تر تنصیبات نے بجلی کی کھپت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں جیسے گوگل اور ایمیزون اب ایسے چیلنج کا سامنا کر رہی ہیں جہاں انہیں اپنے ڈیٹا سینٹرز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے کے لیے پائیدار اور مسلسل توانائی کی فراہمی درکار ہے۔ شمسی توانائی، جو کہ ایک اہم قابل تجدید ذریعہ ہے، سورج غروب ہونے کے بعد دستیاب نہیں رہتی، جبکہ ڈیٹا سینٹرز کا نظام کسی بھی لمحے بجلی بندش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی انجینئرنگ کا تضاد ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کو بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے دنیا کے سب سے بڑے خریداروں میں تبدیل کر رہا ہے۔ گوگل اور ایمیزون جیسی بڑی کارپوریشنز اب گیگا واٹ پیمانے کے بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی مالی معاونت کر رہی ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دن کے اوقات میں پیدا ہونے والی زائد شمسی توانائی کو بڑی بڑی بیٹریوں میں محفوظ کیا جائے تاکہ رات کے وقت یا جب سورج کی روشنی میسر نہ ہو، ڈیٹا سینٹرز کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ماحول دوست توانائی کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کے لیے درکار مستقل بجلی کے حصول کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بدلتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ اب صرف صارفین نہیں بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبہ ساز بن چکے ہیں۔ اس تکنیکی منتقلی کے دوران توانائی کی فراہمی کا دورانیہ، مسلسل پیداوار اور مانگ کے مطابق لچکدار نظام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ محض شمسی پینلز کافی نہیں رہے، اب بیٹریوں کی گنجائش کو بڑھانا ایک ترجیح بن چکا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو درکار بجلی کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ان کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر تحقیق و ترقی میں بھی سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔ مستقبل قریب میں اس طرح کے بڑے اسٹوریج سسٹمز نہ صرف گوگل اور ایمیزون کے ڈیٹا سینٹرز کی ضروریات پوری کریں گے بلکہ یہ قومی گرڈز پر بوجھ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ ٹیکنالوجی اور توانائی کے انضمام کا یہ سفر آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹل معیشت کی بقا کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔