LIVE
Loading Breaking News...

وائٹ ہاؤس کی نئی سائنسی اور تکنیکی حکمت عملی کا اعلان

News Image
وائٹ ہاؤس نے قومی سلامتی اور سائنسی و تکنیکی تحقیق کے تحفظ کے لیے ایک نئی جامع پالیسی جاری کر دی ہے۔ اس پالیسی میں عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے سائنسی اور تکنیکی (S&T) شعبوں میں تحقیق کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئی جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی رہنمائی کا بنیادی مقصد امریکی تحقیقی اداروں کو درپیش بیرونی چیلنجز سے بچانا اور ملک میں جدت طرازی کے عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق، امریکہ اب اپنے تحقیقی شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے عالمی سطح پر موجود بہترین اور اعلیٰ درجے کے ٹیلنٹ کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور انہیں ملک میں برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدام گزشتہ برس جاری ہونے والی قومی سلامتی کی حکمت عملی سے ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں کچھ خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ نئی حکمت عملی میں خاص طور پر ان شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو براہ راست قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس پالیسی کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ کس طرح امریکی تحقیقی اداروں میں کام کرنے والے بین الاقوامی ماہرین کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی تکنیکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی عالمی مسابقت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے، خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے شعبوں میں دنیا بھر میں سخت مقابلہ جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ سائنسی ترقی کے تحفظ کے لیے کھلے پن اور سیکورٹی کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔ مزید برآں، یہ نئی حکمت عملی تحقیقی مراکز کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے جدید طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو اپنے شراکت داروں کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ حساس ٹیکنالوجی کا غلط ہاتھوں میں جانا روکا جا سکے۔ حکومت ان اداروں کو تکنیکی مدد اور وسائل فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے ڈیجیٹل اور علمی اثاثوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس پوری پالیسی کا نچوڑ یہ ہے کہ امریکہ اپنی علمی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ اپنے داخلی تحقیقی ڈھانچے کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گا، تاکہ آئندہ برسوں میں سائنسی شعبے میں عالمی قیادت کو یقینی بنایا جا سکے۔