LIVE
Loading Breaking News...

کیلیفورنیا کا اے آئی شفافیت قانون اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا ردعمل

News Image
کیلیفورنیا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق نافذ کردہ نئے شفافیت کے قانون کے بعد بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے تعمیل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 13 میں سے صرف 7 بڑی کمپنیاں ہی اپنے ڈیٹیکشن ٹولز کو عوام کے سامنے لانے میں کامیاب ہو سکی ہیں۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں حال ہی میں نافذ ہونے والے آرٹیفیشل انٹیلیجنس شفافیت قانون نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیاں اپنے ڈیٹیکشن ٹولز اور طریقہ کار کو عوام کے لیے شفاف بنائیں۔ اس قانون سازی کے بعد ایک آزادانہ جائزے میں 13 بڑی اے آئی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا جو امیج اور آڈیو جنریشن کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ نتائج انتہائی چونکا دینے والے ہیں کیونکہ ان میں سے صرف 7 کمپنیاں ہی حکومتی تقاضوں کے مطابق اپنے ڈیٹیکشن ٹولز فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ٹیکنالوجی کی صنعت میں شفافیت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ نئے قانون کے تحت کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی فراہم کریں جس کے ذریعے یہ پتا چلایا جا سکے کہ آیا کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو فائل مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے یا نہیں۔ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر جعلی مواد یا ڈیپ فیک کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنا ہے۔ تاہم، جائزہ لینے والے اداروں کے مطابق بڑی کمپنیاں تکنیکی رکاوٹوں اور تجارتی رازوں کو چھپانے کے بہانے ان ٹولز کو جاری کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بہت سی کمپنیاں ابھی تک اپنے سسٹم کو نئے ضوابط کے مطابق ڈھالنے کے عمل میں ہیں، جس کی وجہ سے صارفین اور ریگولیٹرز کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں کمپنیوں پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ اگر بڑی کمپنیاں تعمیل میں ناکام رہتی ہیں تو انہیں بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون سازوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ کمپنیوں کی اخلاقی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ آنے والے چند ماہ اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا یہ کمپنیاں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں یا پھر انہیں کیلیفورنیا حکومت کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مستقبل کے حوالے سے یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ یہ قانون دیگر ریاستوں اور ممالک کے لیے بھی ایک نمونہ ثابت ہوگا۔ ٹیکنالوجی کی صنعت میں شفافیت کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب کمپنیاں محض دعووں پر اکتفا نہیں کر سکتیں۔ صارفین اور انسانی حقوق کے محافظ ادارے اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ 7 کمپنیاں جو تعمیل کر رہی ہیں، وہ باقی ماندہ کمپنیوں کے لیے مثال بنیں گی یا پھر اے آئی ٹیکنالوجی کی شفافیت کا یہ سفر مزید پیچیدگیوں کا شکار رہے گا۔