Pakistan
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 9 دہشت گرد مارے گئے
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران نو دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے کارروائیوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کے دوران بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کم از کم نو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں صوبے کے مختلف اضلاع میں کی گئیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔ ان آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیارت اور ہرنائی کے اضلاع سمیت بلوچستان کے دیگر حصوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں علاقے میں سرگرم دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ دیگر کئی دہشت گردوں کے فرار ہونے یا زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹالا جا سکے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں جاری بدامنی اور تخریب کاری کے واقعات کے خلاف پرعزم ہیں اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حالیہ کارروائی کو سیکیورٹی ماہرین نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جس سے صوبے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فورسز بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت بحال رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکی ہے کہ ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کامیاب آپریشنز سے مقامی آبادی میں بھی سیکیورٹی فورسز پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور عوام نے بھی دہشت گردوں کے خلاف ان کارروائیوں کو سراہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی الرٹ برقرار رہے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔