World
ایران امریکا تناؤ اور خلیجی ریاستوں پر اثرات
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی ممالک کے لیے شدید سفارتی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ عمان سمیت دیگر عرب ریاستیں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کس طرح خطے میں امن کو یقینی بنایا جائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عرصے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کے ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستوں کو ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت نے خلیجی ممالک کی اسٹریٹجک سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔ خاص طور پر عمان جیسے ممالک، جو روایتی طور پر خطے میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اب ایک مشکل دو راہے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق، خلیجی ریاستیں اب امریکا کی جانب سے خطے میں امن قائم کرنے کی صلاحیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور موجودہ سیاسی ہلچل نے ان ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا امریکا پر انحصار کرنا ان کی قومی سلامتی کے لیے کافی ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب خلیجی ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ تعلقات کے تناؤ کو کم کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب، خطے میں طاقت کا توازن بدلنے سے متعلق بھی نئی بحثیں جنم لے رہی ہیں۔ ترکی جیسے ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں اب زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہیں، جو آنے والے وقت میں نئی دفاعی اور سیاسی صف بندیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ عمان کی جانب سے سفارت کاری پر زور دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک جنگی جنون کی بجائے پرامن حل کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان گہرے اختلافات ان کوششوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
حتمی تجزیے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے اب 'اسٹریٹجک ہیزنگ' (Strategic Hedging) یا محتاط حکمت عملی ہی واحد راستہ بچا ہے۔ وہ نہ تو ایران کے ساتھ کھلی دشمنی مول لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں خطے کا استحکام اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا ایران اور امریکا اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں یا پھر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔