Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ تازہ ترین رپورٹ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا جاتا ہے جس کے اثرات تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور ایران کے گرد منڈلاتے ہوئے خطرات ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو شدید متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اس بات سے خائف ہیں کہ اگر ایران اور اس کے حریفوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھتا ہے تو آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے بند ہو سکتے ہیں، جو تیل کی نقل و حمل کے لیے عالمی سطح پر کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست تعلق سپلائی میں ممکنہ کمی کے خدشات سے جڑا ہوا ہے۔ ایران اوپیک (OPEC) کے اہم رکن ممالک میں شامل ہے اور دنیا بھر میں تیل کی پیداوار میں اس کا نمایاں حصہ ہے۔ ایسی صورت میں جب ایران کے گرد سیاسی بحران پیدا ہو، تو عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں تعطل کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس کا فوری اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال نے ان سرمایہ کاروں کو مزید پریشان کر دیا ہے جو پہلے ہی افراط زر اور عالمی کساد بازاری کے خدشات سے نمٹ رہے ہیں۔
اس صورتحال کے عالمی معیشت پر اثرات دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر تیل کی قیمتوں کا یہ چڑھاؤ برقرار رہتا ہے تو دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نقل و حمل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو تیل کی بڑی مقدار درآمد کرتے ہیں، یہ صورتحال درآمدی بل میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومتوں اور پالیسی سازوں کو اب اس بات کا اندازہ لگانا ہوگا کہ اگر ایران کی جانب سے سپلائی مکمل طور پر بند یا محدود ہوتی ہے تو اس کا متبادل تلاش کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
مستقبل قریب میں عالمی منڈیوں کا دارومدار مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کی سفارتی اور عسکری صورتحال پر ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی تنظیمیں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مارکیٹ کے کھلاڑی ابھی تک پر اعتماد نہیں ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں مزید شدید ہوسکتا ہے، کیونکہ عالمی توانائی کا شعبہ اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں معمولی سا جغرافیائی سیاسی ردعمل بھی قیمتوں میں بھاری تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔