Technology
میٹا کے خلاف سوشل میڈیا ایڈکشن کا مقدمہ: بچوں پر اثرات پر اہم سماعت
امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا کے خلاف دائر کردہ اہم مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے جس میں کمپنی پر بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ میٹا نے اپنے دفاع میں سوشل میڈیا کے نشے کے وجود کو سرے سے ہی مسترد کر دیا ہے۔
امریکی ریاستوں کی جانب سے میٹا کے خلاف دائر کیے گئے ایک بڑے عدالتی مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں کمپنی پر یہ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے دانستہ طور پر بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنایا۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے دلائل دیے کہ میٹا نے ایسے الگورتھمز اور فیچرز متعارف کروائے جو کم عمر صارفین کو طویل وقت تک ایپس پر موجود رہنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس ٹیکنالوجی کمپنیوں کے احتساب کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب میٹا کے قانونی وکلاء نے عدالت میں سخت موقف اپناتے ہوئے سوشل میڈیا کی لت کے تصور کو ہی مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کوئی ایسی طبی حالت نہیں ہے جسے نشے یا لت سے تعبیر کیا جا سکے، اور ان کے پلیٹ فارمز کا مقصد صارفین کو جوڑنا اور تفریح فراہم کرنا ہے۔ میٹا کی قانونی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کمپنیوں کے کاروباری ماڈل کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس مقدمے میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا میٹا نے ان خطرات کے بارے میں والدین اور ریگولیٹرز کو آگاہ کرنے میں کوتاہی برتی ہے۔ عدالت میں ہونے والی اس بحث نے دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے صارفین، بالخصوص بچوں کی نفسیاتی صحت کی ذمہ دار ہیں یا نہیں۔ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق قوانین پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والے دنوں میں مزید گواہان کے بیانات اور ماہرین کی رائے اس مقدمے کی سمت کا تعین کرے گی۔