Technology
برکینا فاسو میں انٹرنیٹ سستا ہوگا، نائجیریا کا نیا منصوبہ
نائجیریا نائجر اور بینن کے راستے فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس سے برکینا فاسو میں انٹرنیٹ کی قیمتوں میں نصف تک کمی متوقع ہے۔ یہ اقدام خطے میں ڈیجیٹل رابطے کو بہتر بنانے اور زمینی راستوں سے جڑے ممالک کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی کو آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
نائجیریا نے خطے میں ڈیجیٹل رسائی کو بہتر بنانے اور انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ایک اہم پیشرفت کا آغاز کیا ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق، نائجیریا اب نائجر اور بینن کے راستے نئے فائبر آپٹک روٹس تعمیر کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ خشکی سے گھرے ہوئے ملک برکینا فاسو تک سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز پہنچائی جا سکیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد برکینا فاسو میں انٹرنیٹ کی لاگت کو 50 فیصد تک کم کرنا ہے، جو کہ فی الحال مہنگے اور پیچیدہ مواصلاتی ذرائع کی وجہ سے عوام پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف برکینا فاسو کو درپیش ڈیجیٹل مشکلات حل ہوں گی، بلکہ یہ نائجیریا کی علاقائی ڈیجیٹل معیشت میں کردار کو بھی مستحکم کرے گا۔ فائبر آپٹک نیٹ ورک کی یہ توسیع بین الریاستی تعاون کی ایک عمدہ مثال ہوگی، جس میں نائجر اور بینن کو بطور ٹرانزٹ روٹس استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام سے خطے میں ڈیٹا ٹرانسمیشن کی رفتار بڑھے گی اور ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی خدمات کی قیمتوں میں کمی لانے کا موقع ملے گا، جس کا براہ راست فائدہ برکینا فاسو کے صارفین کو ہوگا۔
نائجیریا کے اس اقدام کو ٹیلی کام کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نائجیریا کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پہلے ہی افریقہ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، اور اب اس نیٹ ورک کو پڑوسی ممالک تک پھیلانے سے پورے مغربی افریقی خطے میں ڈیجیٹل انقلاب کی راہ ہموار ہوگی۔ اس منصوبے پر کام کے آغاز سے علاقائی تجارت اور آن لائن کاروبار کو بھی فروغ ملے گا کیونکہ سستا اور مستحکم انٹرنیٹ آج کے دور میں اقتصادی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔
حکومت نائجیریا اس حوالے سے متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر تکنیکی اور قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ جلد تکمیل کے مراحل میں داخل ہوگا، جس سے برکینا فاسو جیسے ممالک جو سمندری حدود سے محروم ہیں، انہیں ڈیجیٹل دنیا سے بہتر انداز میں منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی ہوگی بلکہ یہ خطے میں اتحاد اور مشترکہ اقتصادی مفادات کو فروغ دینے کا بھی ذریعہ ثابت ہوگی۔