Entertainment
بیٹی سار کا انتقال: بلیک آرٹس موومنٹ کی عظیم فنکارہ دنیا سے رخصت
بلیک آرٹس موومنٹ کی معروف اور بااثر امریکی فنکارہ بیٹی سار 99 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ انہوں نے اپنی منفرد فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے سیاہ فام شناخت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ امریکی فنکارہ اور بلیک آرٹس موومنٹ کی ممتاز ترین رہنما بیٹی سار 99 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئی ہیں۔ ان کی موت کی خبر نے آرٹ کی دنیا بالخصوص افریقی نژاد امریکی فنکاروں میں شدید صدمہ اور سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔ بیٹی سار کو خاص طور پر ان کے 'اسیمبلج باکسز' یعنی جمع شدہ اشیاء سے بنائے جانے والے فن پاروں کی وجہ سے عالمی سطح پر انمٹ شناخت حاصل ہوئی۔ انہوں نے روایتی فنون کی حدود سے باہر نکل کر روزمرہ کی اور تعصب پر مبنی اشیاء کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔
بیٹی سار کا تخلیقی سفر ہمیشہ سے نسلی شناخت، صنفی مساوات اور سیاسی و سماجی شعور کے گرد گھومتا رہا۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے امریکی معاشرے میں پائی جانے والی نژادی تعصبات اور تاریخی ناانصافیوں کو نہایت جرأت مندانہ انداز میں بے نقاب کیا۔ ان کے فن پارے اکثر پرانی اور ناکارہ اشیاء، گھریلو سامان اور نوآبادیاتی دور کے نشانات پر مشتمل ہوتے تھے، جنہیں وہ نئے اور طاقتور بیانیے کے ساتھ پیش کرتی تھیں۔ ان کی سب سے مشہور تخلیقات میں وہ خوبصورت اور معنی خیز ڈبے شامل ہیں جو غلامی اور سیاہ فام تاریخ کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
بلیک آرٹس موومنٹ میں ان کا مقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اور وہ ان چند فنکاروں میں شامل تھیں جنہوں نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں سیاہ فام فن کو مرکزی دھارے میں لا کھڑا کیا۔ ان کی زندگی بھر کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے کام کو دنیا بھر کی نامور گیلریوں اور عجائب گھروں میں جگہ ملی اور انہوں نے آنے والی نسل کے فنکاروں کے لیے راہ ہموار کی۔
اگرچہ بیٹی سار اب اس دنیا میں نہیں رہیں، مگر ان کے نظریات اور فنکارانہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آرٹ کی تاریخ میں ان کا نام ایک ایسے انقلابی کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے فن کو مزاحمت اور تبدیلی کا ذریعہ بنایا۔ ان کی وفات پر دنیا بھر کے نامور فنکاروں، ناقدین اور مداحوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔