Health
ہسپتالوں میں ڈیجیٹل ریکارڈ سسٹم کا نفاذ ناگزیر، ماہرین کا مطالبہ
صحت اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہسپتالوں میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کے نظام کو لازمی قرار دینے پر زور دیا ہے۔ اس اقدام سے ڈیٹا کے تحفظ اور علاج کی بروقت فراہمی میں اہم پیشرفت متوقع ہے۔
صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ایک اہم مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز (EMR) کے نظام کو فوری طور پر لازمی قرار دیا جائے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی کاغذی ریکارڈ کا طریقہ اب فرسودہ ہو چکا ہے اور موجودہ دور کے طبی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سہارا لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ای ایم آر سسٹم کے نفاذ سے نہ صرف مریضوں کی طبی تاریخ تک رسائی آسان ہوگی بلکہ غلط تشخیص اور ادویات کے غلط استعمال کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ریکارڈز کے ذریعے ڈاکٹرز مریض کی صحت کی مکمل صورتحال کو کسی بھی وقت اور کہیں بھی دیکھ سکیں گے، جس سے ہنگامی صورتحال میں بروقت اور درست فیصلے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ نائجیریا جیسے ممالک کے تناظر میں، جہاں صحت کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اس ٹیکنالوجی کا نفاذ طبی سہولیات کی فراہمی میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کے نظام کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے تکنیکی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ اس سے ڈیٹا کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ اکثر کاغذی ریکارڈز گم ہو جانے یا خراب ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل فارمیٹ میں معلومات محفوظ اور منظم رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہسپتالوں کی انتظامیہ کے لیے بھی مریضوں کا ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنا اور انشورنس کلیمز کی کارروائی کو نمٹانا انتہائی تیز اور شفاف ہو جائے گا۔ ماہرین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی وضع کریں تاکہ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں اس نظام کی تنصیب کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو تربیت فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل استفادہ کر سکیں۔ اگرچہ اس عمل میں ابتدائی اخراجات اٹھ سکتے ہیں، تاہم طویل المدتی فوائد، جیسے کہ انسانی غلطیوں میں کمی، اخراجات کی بچت اور مریضوں کی جان بچانے کے امکانات، اس منصوبے کو ایک دانشمندانہ سرمایہ کاری بناتے ہیں۔ آخر میں، ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کی جانب منتقلی ہی جدید دنیا کا تقاضا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے تاکہ مریضوں کو ایک بہتر اور محفوظ علاج کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔