LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مصنوعی ذہانت پر کارپوریٹ اخراجات کی رپورٹ

News Image
ریمپ اے آئی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنیوں کا ایک چھوٹا حصہ فی ملازم مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اکثریت کی جانب سے معمولی اخراجات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے انضمام میں وسیع خلیج موجود ہے۔
امریکہ کے کارپوریٹ سیکٹر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال اور اس پر ہونے والے اخراجات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے کاروباری دنیا میں جاری ٹیکنالوجی کی دوڑ کی نئی تصویر کشی کی ہے۔ ’ریمپ اے آئی انڈیکس‘ کی جانب سے 12 اگست کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکی کمپنیوں کے ایک انتہائی چھوٹے مگر طاقتور طبقے، یعنی سب سے اوپر موجود 1 فیصد کاروباری اداروں نے جولائی کے مہینے میں فی ملازم مصنوعی ذہانت پر اوسطاً 7,400 ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی کمپنیاں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ماڈل کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سرمایہ کاری کا یہ فرق صرف ٹاپ 1 فیصد کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں درجہ بندی کے لحاظ سے بہت بڑا تفاوت موجود ہے۔ سب سے اوپر موجود 10 فیصد کمپنیاں فی ملازم تقریباً 650 ڈالر خرچ کر رہی ہیں، جو کہ ایک نمایاں رقم ہے، تاہم جب ہم مارکیٹ کے درمیانی حصے کا جائزہ لیتے ہیں تو صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اوسط درجے کی امریکی کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے حصول یا اس سے متعلقہ ٹولز پر فی ملازم صرف 11.95 ڈالر خرچ کیے۔ یہ واضح خلیج اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں بڑی کمپنیاں اور چھوٹی یا درمیانی سطح کی کمپنیاں ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکی ہیں۔ اس اعداد و شمار کے گہرے معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا یہ بھاری فرق مستقبل میں پیداواری صلاحیت، مارکیٹ شیئر اور مسابقتی فوائد کے اعتبار سے کمپنیوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔ جن کمپنیوں نے بروقت بھاری سرمایہ کاری کی ہے، وہ آپریشنل اخراجات کو کم کرنے اور نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں بہت جلد کامیاب ہو جائیں گی، جبکہ وہ ادارے جو ابھی صرف بنیادی سطح پر اخراجات کر رہے ہیں، انہیں عالمی مارکیٹ میں اپنی بقا برقرار رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ اس رپورٹ نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت صرف بڑے اداروں کی ضرورت بن کر رہ جائے گی یا درمیانی سطح کی کمپنیاں بھی اپنے محدود بجٹ کے باوجود اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں گی۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کمپنیوں کو صرف اخراجات کی مقدار پر توجہ دینے کے بجائے اے آئی ٹولز کے عملی اطلاق اور اپنے ملازمین کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ اگرچہ فی الحال سرمایہ کاری کا فرق بہت زیادہ ہے، لیکن آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کی رسائی بڑھنے کے ساتھ اس خلیج کے کم ہونے یا تبدیل ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔