LIVE
Loading Breaking News...

پروستات کینسر کا فوکل تھراپی سے علاج: جدید امریکی تحقیق کے سنسنی خیز انکشافات

News Image
ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران امریکہ میں پروستات کینسر کا علاج کروانے والے نصف مریض ایسے تھے جن کے حالات موجودہ طبی رہنما اصولوں پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ماہرین کے مطابق غیر ضروری یا نامناسب طریقہ علاج سے مریضوں کی صحت کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پراسٹیک یا پروستات کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جدید ترین تکنیک فوکل تھراپی سے متعلق امریکہ میں ایک چونکا دینے والی طبی تحقیق سامنے آئی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران امریکہ میں اس طریقہ علاج سے گزرنے والے نصف کے قریب مریض ایسے گروپس یا طبی حالات سے تعلق رکھتے تھے جنہیں موجودہ طبی رہنما اصول اس علاج کی اجازت نہیں دیتے یا ان کے لیے اس کی سفارش نہیں کرتے۔ اس انکشاف نے طبی ماہرین اور ہیلتھ کیئر پالیسی سازوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ فوکل تھراپی پروستات کینسر کا ایک ایسا طریقہ علاج ہے جس میں پورے غدود کو نکالنے کے بجائے صرف کینسر سے متاثرہ مخصوص حصے یا ٹیومر کو ہی ہدف بنایا جاتا ہے۔ اس تھراپی کا بنیادی مقصد مریض کو روایتی جراحی یا ریڈی ایشن تھراپی کے شدید سائیڈ ایفیکٹس جیسے کہ پیشاب کی بے اعتدالی اور جنسی صلاحیت کے خاتمے سے بچانا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی اور امریکی طبی گائیڈ لائنز کے مطابق یہ طریقہ صرف ان مریضوں کے لیے موزوں ہے جن میں کینسر درمیانے درجے یا کم خطرے کی سطح پر ہو۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے مریضوں کا بھی فوکل تھراپی سے علاج کیا گیا جن میں کینسر انتہائی شدید نوعیت کا تھا یا جن کا ٹیومر بہت پھیلا ہوا تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ خطرے والے مریضوں میں یہ علاج استعمال کرنے سے کینسر کے دوبارہ لوٹنے یا جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس انتہائی کم خطرے والے مریضوں کے لیے بھی اس تھراپی کا بے جا استعمال دیکھا گیا ہے جنہیں عام طور پر صرف سخت طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے زور دیا ہے کہ فوکل تھراپی فراہم کرنے والے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو طے شدہ طبی رہنما اصولوں کی سخت پاسداری کرنی چاہیے۔ مریضوں کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی جدید علاج کو منتخب کرنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے اس کے تمام تر نتائج اور خطرات کے بارے میں تفصیلی مشاورت کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اسی صورت میں اس جدید تکنیک کے حقیقی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں اور مریضوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔