LIVE
Loading Breaking News...

بلیک ہیٹ یو ایس اے: سائبر سیکیورٹی اور اے آئی کے خطرناک رجحانات

News Image
بلیک ہیٹ یو ایس اے کانفرنس کے دوران سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کے لیے اب تمام سائبر حملوں کو روکنا ممکن نہیں رہا بلکہ سائبر ریزیلیئنس اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔
معروف سائبر سیکیورٹی کانفرنس 'بلیک ہیٹ یو ایس اے' کے دوران پیش کی جانے والی رپورٹوں اور ماہرین کے تجزیوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ موجودہ دور میں سائبر ریزیلیئنس (Cyber Resilience) کسی بھی کاروباری ادارے کے لیے انتہائی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں، وہیں اس نے سائبر حملوں کی رفتار اور شدت کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی دفاعی نظام اب جدید اور خودکار خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں رہے ہیں۔ کانفرنس کی کوریج کے دوران سامنے آنے والے اہم نکات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے تجارتی اداروں کے ڈیجیٹل ڈومین یعنی اٹیک سرفیس (Attack Surface) کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ خود مختار سسٹمز (Autonomous Systems) کو اب اداروں کے حساس ترین ڈیٹا اور اہم آپریشنز تک زیادہ رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں حملہ آوروں کے لیے نئی کمزوریاں تلاش کرنا اور ان کا فائدہ اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ اے آئی کے ذریعے کیے جانے والے حملے اتنے تیز اور پیچیدہ ہوتے ہیں کہ سیکیورٹی ٹیموں کے لیے انہیں فوری طور پر پہچاننا اور روکنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اب یہ سوچنا غیر حقیقی ہے کہ تمام سائبر حملوں یا آپریشنل رکاوٹوں کو مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ جدید سائبر حکمت عملی کا محور اب صرف دفاع تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی سائبر حملہ ہو جائے یا نظام میں خلل پیدا ہو تو ادارہ کتنی تیزی سے اپنے آپریشنز کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔ اس نظریے کو ہی سائبر ریزیلیئنس کہا جاتا ہے، جس میں حملے کے دوران خدمات کا مسلسل جاری رہنا اور حساس ڈیٹا کا تحفظ شامل ہے۔ حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں کاروباری اداروں اور آئی ٹی لیڈرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی سسٹمز میں فوری اصلاحات کریں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں صرف ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے بجائے ملازمین کی تربیت، خودکار سیکیورٹی ٹولز کا استعمال اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی حکمت عملی کو مربوط بنانا لازمی ہے۔ بلیک ہیٹ یو ایس اے کے ان اہم نکات نے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مستقبل کی سائبر پالیسیاں مرتب کرنے کا ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔