World
چینی AI میزائل سسٹم کا امریکی F-35 طیاروں کو 90 فیصد درستگی سے ٹریک کرنے کا دعویٰ
چینی محققین نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو امریکی F-22 اور F-35 جنگی طیاروں کے انجن سے نکلنے والی حرارت کو ٹریک کرتا ہے۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے ٹیسٹوں میں اس جدید نظام نے دھوکہ دینے والے فلیرز کے باوجود 90 فیصد درستگی سے ہدف کی شناخت کی ہے۔
بیجنگ: چین کے محققین نے ایک جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی میزائل ہدف بندی کا نظام تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو امریکی فضائیہ کے پیش رس F-35 اور F-22 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کو 90 فیصد درستگی کے ساتھ ٹریک کر سکتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر طیاروں کے انجن سے نکلنے والی انفراریڈ یعنی حرارتی شعاعوں کی مدد سے اپنے ہدف کا تعین کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تجربہ گاہ میں کیے گئے ٹیسٹوں کے دوران اس نئے AI ماڈل نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ روایتی طور پر جیٹ طیارے اپنے دفاع کے لیے حرارت خارج کرنے والے سگنل فلیئرز (Decoys) چھوڑتے ہیں تاکہ حرارت کا تعاقب کرنے والے میزائلوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ تاہم، چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا حرارت پر مبنی شناختی ماڈل ان دھوکہ دینے والے آلات سے متاثر نہیں ہوتا اور اصل طیارے کے انجن کا سگنل کامیابی سے پہچان لیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری کو عالمی دفاعی میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی F-35 اور F-22 طیارے دنیا کے طاقتور ترین اسٹیلتھ طیاروں میں شمار ہوتے ہیں جو ریڈار کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انفراریڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج نے ان کی اس صلاحیت کو چیلنج کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس نظام کو عملی طور پر عسکری صفوں میں شامل کر لیا گیا تو اس سے خطے میں فضائی برتری کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد عالمی دفاعی حلقوں میں تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔