Business
پیراماؤنٹ کیس: امریکی ریاستوں کا 1.9 ارب ڈالر مچلکہ جمع کرانے سے انکار
پیراماؤنٹ پکچرز نے اینٹی ٹرسٹ مقدمے میں ملوث امریکی ریاستوں سے 1.9 ارب ڈالر کا زرِ ضمانت جمع کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم کیلیفورنیا اور دیگر متعدد ریاستوں نے اس مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ہالی ووڈ کی معروف اسٹوڈیو کمپنی پیراماؤنٹ اور مختلف امریکی ریاستوں کے درمیان جاری اینٹی ٹرسٹ مقدمے میں نیا قانونی موڑ سامنے آیا ہے۔ پیراماؤنٹ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمہ دائر کرنے والی تمام امریکی ریاستوں کو 1.9 ارب ڈالر کا زرِ ضمانت یعنی بانڈ جمع کرانے کا حکم دیا جائے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ اس کیس کے باعث اسے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے تحفظ کے لیے یہ رقم قانونی طور پر ضروری ہے۔
یہ اہم قانونی معرکہ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا کی قیادت میں شروع ہوا تھا، جس میں اریزونا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، میساچوسٹس، منیسوٹا، نیواڈا، نیو جرسی، نیو میکسیکو، نیویارک، اوریگن اور واشنگٹن سمیت متعدد امریکی ریاستیں شامل ہیں۔ جج اراسیلی مارٹینیز اولگین کی عدالت میں دائر کی گئی اس درخواست پر ریاستوں کے وکلاء نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پیراماؤنٹ کے اس مطالبے کو غیر آئینی اور غیر منطقی قرار دیا ہے۔
ریاستوں کی جانب سے جمع کرائے گئے قانونی جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اور ریاستی اداروں پر اس نوعیت کے اینٹی ٹرسٹ مقدمات میں اربوں ڈالر کا بانڈ جمع کرانے کی شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔ ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا کہنا ہے کہ پیراماؤنٹ کا مقصد اس بھاری رقم کا مطالبہ کر کے عوامی مفاد میں کی جانے والی قانونی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالنا اور مقدمے کو التوا کا شکار کرنا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ میڈیا اور تفریحی صنعت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر عدالت پیراماؤنٹ کی استدعا منظور کرتی ہے تو ریاستوں کے لیے مقدمہ آگے بڑھانا دشوار ہو جائے گا، جبکہ ریاستوں کی فتح کی صورت میں پیراماؤنٹ کو اپنی کاروباری پالیسیوں اور اینٹی ٹرسٹ قوانین کی پاسداری کے لیے سخت جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔