LIVE
Loading Breaking News...

پولانস্কি گیلوٹین تصویر کیس: پولیس کی جانب سے مزید کارروائی کا فیصلہ ختم

News Image
برطانوی گرین پارٹی کے رہنما نے سوشل میڈیا پر گیلوٹین کی متنازعہ تصویر شیئر کرنے کو ایک غیر ارادی غلطی قرار دیا تھا۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات کے بعد تصدیق کی گئی ہے کہ اس معاملے میں مزید کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب گرین پارٹی کے رہنما کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ تصویر شیئر کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس تصویر میں مبینہ طور پر گیلوٹین دکھائی گئی تھی جس نے عوامی حلقوں اور سیاسی حریفوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔ پولیس اور متعلقہ حکام نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ اقدام کسی قانون کی خلاف ورزی یا دھمکی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ تحقیقات کے دوران گرین پارٹی کے رہنما نے سختی سے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تصویر انہوں نے نادانستہ طور پر اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کی تھی اور اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ نیت یا کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ہرگز شامل نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی اس غلطی پر فوری طور پر وضاحت بھی پیش کی تھی۔ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد پولیس حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے میں اب مزید کوئی قانونی یا رسمی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔ پولیس کے اس فیصلے سے گرین پارٹی اور متعلقہ رہنما کو بڑی راحت ملی ہے، کیونکہ اس واقعے کے بعد سے سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث جاری تھی۔ ماہرین قانون کے مطابق، چونکہ یہ فعل غیر ارادی ثابت ہوا اور اس میں کسی کو براہ راست نقصان پہنچانے کی دھمکی نہیں پائی گئی، اس لیے پولیس کے پاس اس مقدمے کو بند کرنے کے علاوہ اور کوئی معقول جواز نہیں تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے محتاط استعمال اور سیاست دانوں کی جانب سے آن لائن مواد کی شیئرنگ پر گہرے اثرات کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے، اور تمام سیاسی جماعتیں اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔