Health
ہسپتالوں میں سماعت سے محروم مریضوں کے ساتھ مواصلاتی مسائل پر رپورٹ
مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں اشاروں کی زبان سمجھنے کی سہولیات کا فقدان ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بروقت مواصلت نہ ہونے کے باعث ایک سماعت سے محروم مریض کو غلط دوا دی گئی۔
ایک حالیہ سرکاری محتسب کی رپورٹ نے صحت کے شعبے میں معذور افراد کے ساتھ پیش آنے والے سنگین مواصلاتی مسائل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، قوتِ سماعت سے محروم ایک مریض کو اس وقت شدید طبی غلطی کا سامنا کرنا پڑا جب ہسپتال کے عملے نے اشاروں کی زبان کو سمجھنے میں کوتاہی برتی۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں مریض کو غلط انجیکشن لگا دیا گیا، جس سے طبی نظام کی فعالیت اور مریضوں کی حفاظت پر گہرے تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، ایسے واقعات صرف ایک غلطی نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی ہیں جہاں معذور مریضوں کو اپنی بات پہنچانے کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں ایسے عملے کی سخت ضرورت ہے جو خصوصی طور پر اشاروں کی زبان (Sign Language) میں مہارت رکھتا ہو۔ جب بھی کوئی سماعت سے محروم مریض ہسپتال پہنچتا ہے، تو اسے فوری طور پر ایک ترجمان یا مترجم فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ علاج کے دوران کسی قسم کی ابہام پیدا نہ ہو۔ موجودہ صورتحال میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ طبی عملہ جلدی بازی میں مریض کی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا، جس کا نتیجہ سنگین طبی غلطیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے مریضوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ہسپتالوں میں مواصلاتی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔
محتسب کی جانب سے جاری کردہ یہ رپورٹ حکومت اور صحت عامہ کے اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف طبی آلات کا ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان رابطے کا موثر ہونا علاج کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس واقعے کے بعد اب متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں معذور افراد کے لیے خصوصی مواصلاتی پروٹوکول کا نفاذ یقینی بنائیں۔ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں مزید مریض اسی طرح کی طبی غفلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ طبی تعلیم کے نصاب میں بھی اشاروں کی زبان اور معذور افراد کی نفسیات کو شامل کیا جائے تاکہ مستقبل کے ڈاکٹرز اپنے مریضوں کی زبان اور ضرورت کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔