Technology
موبائل والیٹ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اور مستقبل
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے لیکن کیش کا استعمال ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق نوے فیصد موبائل والیٹ صارفین ڈیبٹ کارڈ کو بطور ڈیفالٹ طریقہ ادائیگی استعمال کر رہے ہیں۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث مالیاتی نظام میں بھی انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور لوگ اب روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل والٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم ایک اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ نقد رقم (کیش) کے استعمال میں کمی کی رفتار پہلے کی نسبت سست پڑ گئی ہے۔ اگرچہ ڈیجیٹل ادائیگیاں عروج پر ہیں لیکن لوگ اب بھی روزمرہ کے چھوٹے لین دین کے لیے نقدی پر انحصار کرتے ہیں۔
حالیہ تحقیقی اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ تقریباً دس میں سے نو موبائل والیٹ صارفین نے اپنے ڈیبٹ کارڈز کو اپنی ایپس کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے اور اسے بطور 'ڈیفالٹ' ادائیگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین اب اپنے بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان گہرا تعلق قائم کر چکے ہیں۔ ڈیبٹ کارڈ کا بطور ڈیفالٹ انتخاب نہ صرف صارفین کے لیے سہولت کا باعث ہے بلکہ یہ مالیاتی لین دین کو مزید شفاف اور تیز رفتار بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ موبائل پیمنٹس کا گراف مسلسل اوپر کی طرف جا رہا ہے، لیکن کیش کی مکمل دوری ابھی ایک طویل مدتی عمل ہے۔ نقد رقم کا استعمال ابھی بھی دیہی علاقوں اور چھوٹے کاروباری مراکز میں اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے ہے۔ تاہم، جس تیزی سے فنانشل ٹیکنالوجی (FinTech) کمپنیاں مارکیٹ میں اپنے قدم جما رہی ہیں، اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔ اس تبدیلی کے لیے حکومتوں اور بینکنگ سیکٹر کی جانب سے مزید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فراہمی ناگزیر ہے۔
مستقبل میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں مزید سیکیورٹی اور آسانیاں شامل ہونے کی توقع ہے۔ صارفین کا بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ ایک کیش لیس اکانومی (Cashless Economy) کی جانب گامزن ہے۔ اگرچہ کیش کا استعمال سست روی سے کم ہو رہا ہے، لیکن ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کا عمل اب ناقابلِ واپسی حد تک پہنچ چکا ہے، جو کہ عالمی معاشی رجحانات کے عین مطابق ہے۔